بات بات پر ’پاکستان چلے جاؤ‘ کہنے والی بی جے پی نے اپنے ترقیاتی منصوبے کی تشہیر کیلئے پاکستانی گانا استعمال کر لیا۔
بھارت میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو پاکستانی قرار دینے سے لے کر پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور حکومت پر تنقید کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو بھی پاکستان سے جوڑنے کی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں۔
کانگریس رہنما مودی پر تنقید کریں تو راہول گاندھی کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے اور بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو تو بات بات پر کہا جاتا ہے، پاکستان چلے جاؤ۔ بھارتی مسلمانوں کو بھی مختلف مواقع پر ’پاکستان چلے جاؤ‘ جیسے نعروں اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بی جے پی فار انڈیا نامی ایکس اکاؤنٹ سے ممبئی اور پونے کے درمیان پہاڑی علاقے میں تعمیر کیے جانے والے ایک پل سے متعلق ویڈیو شیئر کی گئی۔ ویڈیو کے پس منظر میں پاکستانی بینڈ بیان کا گانا استعمال کیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
صارفین کا کہنا تھا کہ ایک جانب بھارت میں پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کے کام کرنے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور دوسری جانب پاکستان مخالف بیانیے کے لیے مشہور سیاسی جماعت اپنے ترقیاتی منصوبے کی تشہیری ویڈیو میں پاکستانی گانا استعمال کر رہی ہے۔
Imagine banning Pakistani artists and Pakistani music in the name of nationalism, only to use a Pakistani song when it suits you.
The hypocrisy is louder than the music.
— Aryan (@Aryan4_4) August 24, 2026
کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستانی فنکاروں اور موسیقی کو بھارت میں قابلِ اعتراض سمجھا جاتا ہے تو بی جے پی کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پاکستانی گانے کا استعمال کیسے کیا گیا؟
سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں بعض صارفین نے اسے بی جے پی کے پاکستان مخالف بیانیے میں تضاد قرار دیا، جبکہ دیگر نے نشاندہی کی کہ فنون اور موسیقی کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھنا چاہیے۔



