آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر انتخاب کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے۔
اسمبلی مجموعی طور پر 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 45 جنرل اور 8 مخصوص نشستیں شامل ہیں، تاہم پونچھ ڈویژن کے 7 حلقوں میں تاحال الیکشن منعقد نہیں ہوئے، جس کے باعث موجودہ اسمبلی میں ارکان کی تعداد 46 ہے۔
آزاد کشمیر میں انتخابات تین مراحل میں ہوئے۔ پونچھ ڈویژن میں الیکشن آخری مرحلہ میں 10 اگست کو ہونا تھے تاہم الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے راولاکوٹ اور سندھنوتی میں امن و امان کی صورتحال کے باعث ڈویژن کی 11 میں سے 7 نسشتوں پر پولنگ ملتوی کر دی تھی جو تاحال نہ ہو سکی۔
ارکان کی حلف برداری کی تقریب اسمبلی ہال میں ہوئی، جس کے ساتھ ہی نئی اسمبلی نے باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کردیا۔
سبکدوش اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا۔ حلف اٹھانے کے بعد ارکان نے اپنی آئینی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
نومنتخب ارکان کی حلف برداری کے بعد آزاد کشمیر میں نئی حکومت سازی کا عمل مزید آگے بڑھ گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کل متوقع ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کا انتخاب 27 اگست کو ہونے کا امکان ہے۔
ن لیگ نے 8 میں 6 مخصوص نشستیں جیت لیں
مخصوص نشستوں کے لیے آج ہونے والی پولنگ کے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم ن نے 5 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 2 سیٹیں جیتیں ہیں۔
اسمبلی میں کل 8 مخصوص نسشتیں ہیں، اوورسیز کشمیریوں کی نشست پر ن لیگ کے عبدالرحمان آرائیں پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے تھے، یوں ن لیگ کے حصے میں آئی نشستوں کی کل تعداد 6 ہو گئی ہے۔
مخصوص نشستوں کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک جاری رہا، سیکرٹری الیکشن کمیشن پولنگ کے پریزائیڈنگ افسر تھے۔
خواتین کی 5 مخصوص نشستوں پر 6 امیدوار مدمقابل تھے ، مسلم لیگ ن کی 4 اور پیپلز پارٹی کی دو امیدوار آمنے سامنے تھیں، 5 خواتین، ایک ٹیکنوکریٹ، ایک علما و مشائخ اور ایک اوورسیز کشمیری کی نشست کے لیے پولنگ ہوئی۔
خواتین کی نشستوں پر ن لیگ کی جانب سے مریم کشمیری، سحرش قمر، اور مریم ادریس منتخب ہوئیں جبکہ 2 نسشتیں پیپلز پارٹی کی فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید کے حصے میں آئیں۔
ٹیکنوکریٹ نشست پر ن لیگ کے افتخار گیلانی کامیاب ہوئے، ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ذوالفقار سے تھا۔
علما و مشائخ نشست پر ن لیگ کے مظہر سعید کامیاب ہوئے ہیں جن کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے طارق محمود تھے۔
مخصوص نشستوں پر انتخابات کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن 31 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 14 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ن لیگ نے جموں و کشمیر عوامی دست و بازو کے ایک رکن ساجد اقبال کے ساتھ اتحاد بھی کر رکھا ہے۔
وزیر اعظم کا فیصلہ میاں نواز شریف کریں گے
گزشتہ روز آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے اہم مرحلے کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس مظفرآباد کے نجی ہوٹل میں ہوا، جس میں حکومت سازی کے آئندہ لائحہ عمل سمیت اہم سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔
اجلاس کی صدارت مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے کی، جبکہ پارٹی قیادت سمیت تمام نومنتخب ارکان اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور انوشہ رحمان بھی شریک ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی اجلاس میں موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے آئندہ لائحہ عمل پر اہم مشاورت کی گئی، جبکہ مخصوص نشستوں پر انتخاب کے حوالے سے ارکان اسمبلی کو ہدایات دینے پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قانون ساز اسمبلی کے انتخاب کے معاملے پر بھی غور کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) تاحال قائد ایوان، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ناموں کا حتمی فیصلہ نہیں کرسکی۔
ذرائع کے مطابق قائد ایوان، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ناموں کی حتمی منظوری مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف دیں گے۔

