وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی “کوئی ڈیڈ لائن نہیں ہے” اور حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست ” دوبارہ دائر” کر دی ہے۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو “سپریم کورٹ کے فیصلے پر ‘ٹیکنیکل اعتراض’ ہے جس کی وجہ سے کریمنل جسٹس سسٹم میں خرابی ہو سکتی ہے کہ آپ کو [علاج کے لیے] ایک ہزار درخواست آ سکتی ہے۔”
Rana Sanaullah says there is no deadline for Imran Khan’s transfer to the hospital and that the relief granted for his transfer to Shifa International Hospital is against the law, with a review petition being refiled in the Supreme Court. pic.twitter.com/A3yALtWMfq
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) August 20, 2026
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماتحت عدالتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے، “تو پھر کیا اس ہزار آدمی کو [جیل سے] نجی اسپتال منتقل کیا جائے گا، کیونکہ ماتحت عدالتوں کے پاس تو پھر کوئی عذر ہی نہیں ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آرڈر نہ کرے۔”
سپریم کورٹ نے منگل کے روز سابق وزیر اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وفاقی حکومت نے ایک روز بعد یعنی بدھ کو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جو اعتراضات لگنے کے بعد آج واپس لے لی گئی تھی۔ ن لیگی ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا تھا کہ ترمیم کے بعد درخواست جلد دوبارہ دائر کی جائے گی۔
73 سالہ عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ ان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور ان کے فیملی کا کہنا ہے کہ انہیں کئی ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا جبکہ ان کی صحت بھی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔
ان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے میڈیکل رپورٹس طلب کی تھیں جس کے بعد انہیں نجی اسپتال شفٹ کرنے، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے، اور خاندان سے ملاقات کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا عدالتی فیصلے پر “ٹیکنیکل اعتراض” کی وجہ سے بظرثانی درخواست جمع کرائی ہے، “جیسے ہی ریویو پر فیصلہ ہوتا ہے تو گورنمنٹ قانون اور آئین کی پابند ہے اور اس کے مطابق کورٹس کے فیصلے کا احترام لازم ہے۔”
دوسری جانب پی ٹی آئی نے حکومت پر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے سلسلے میں ٹال مٹول سے کام لینے کا الزام لگاتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست دینے کی دھمکی دی ہے۔
عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جیل حکام نے عمران خان سے توہینِ عدالت کی درخواست اور وکالت ناموں پر دستخط نہیں کروا کر دیے۔
جیل حکام نے عمران خان صاحب سے توہینِ عدالت کی درخواست اور وکالت ناموں پر دستخط کروا کر یہ دستاویزات فراہم نہیں کیں، بلکہ جان بوجھ کر قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ یہ عمل سراسر غیر قانونی اور قابلِ مذمت ہے۔
ہم ہر حال میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے اور… pic.twitter.com/JNVKlhekaD
— Khalid Yousaf Chaudry (@KhalidYChaudry) August 20, 2026
انہوں نے الزام لگایا کہ جیل حکام نے جان بوجھ کر قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ “یہ عمل سراسر غیر قانونی اور قابلِ مذمت ہے۔ ہم ہر حال میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے اور اس غیر قانونی اقدام کو عدالت کے سامنے اٹھائیں گے۔”
اس سے قبل انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے لیے تمام قانونی تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں اور عدالتی حکم کی مصدقہ نقل کے ساتھ باضابطہ درخواست جیل حکام کو بھیج دی گئی ہے اور اگر تاخیر سے کام لیا گیا تو “ہر حال میں توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔”
