سپریم کورٹ کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے نجی اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر تاحال عملدرآمد نہ ہوسکا جس پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے “ہر حال میں توہین عدالت کی درخواست دائر” کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے ایکس پر یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا جب حکومت نے عمران خان کی اسلام آباد کے نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل منتقلی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائرکی گئی نظر نظرثانی درخواست واپس لے لی ہے۔
ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ حکومت نے نظرثانی درخواست اعتراضات لگنے کے بعد واپس لی، جبکہ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ترمیم کے بعد درخواست جلد دوبارہ دائر کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ترمیمی درخواست اضافی معروضات کیساتھ دوبارہ دائر ہوگی۔
اسپتال منتقلی کا معاملہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے جس پر عمران خان کی قانونی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ “حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے توہینِ عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے۔”
ہم ہر حال میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر کہ رہیں گے۔
میں توہین عدالت درخواست و وکالت ناموں ہر عمران خان سے دستخط کے لئے اڈیالہ جیل آیا ہوں۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہے، ۔حکومت دو روز کے اندر عمران خان کو ہسپتال منتقل… pic.twitter.com/tmU9PziWn5
— Khalid Yousaf Chaudry (@KhalidYChaudry) August 20, 2026
عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ منتقلی کے لیے تمام قانونی تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں اور عدالتی حکم کی مصدقہ نقل کے ساتھ باضابطہ درخواست جیل حکام کو بھیج دی گئی ہے۔ عدالتی طریقہ کار کے مطابق عدالت نے بھی حکم جیل حکام کو ارسال کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قید اور سزاؤں کا سامنا کرنے والے سابق صدور اور وزرائے اعظم؛ جیل میں کیا سہولتیں میسر رہیں؟
انہوں نے کہا کہ اپیل کنندہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے، لہٰذا جیل حکام سپریم کورٹ کے حکم میں دی گئی ہدایات پر بلا تاخیر عملدرآمد کے پابند ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کو شفاء ہسپتال منتقلی کے تمام قانونی لوازمات پورے کر دیے گئے ہیں اور اس حوالے سے جیل حکام کو باضابطہ طور پر درخواست بمع عدالتی حکم بھی ارسال کر دی ہے۔
اپیلانٹ ڈاکٹر عظمی خان کی جانب سے عدالتی حکم نامے پر عمل در آمد کے لئے باضابطہ مطالبہ کیا ہے اور جیل… pic.twitter.com/imoPLAiJiU
— Khalid Yousaf Chaudry (@KhalidYChaudry) August 19, 2026
وکیل کے مطابق حکومت عمران خان کو دو روز کے اندر اسپتال منتقل کرنے کی پابند ہے، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔
واضح رہے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو دن قبل حکم دیا تھا کہ عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں وہ 16 ستمبر کو ہونے والی آئندہ سماعت تک زیرِ علاج رہیں گے۔
یہ حکم عمران خان، ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان، وکیل عذیر بھنڈاری اور پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزئی کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد جاری کیا گیا تھا، جن میں عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
جیل انتظامیہ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے انتظامات مکمل کر لئے
عدالت نے عمران خان کے معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے، جس میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہرِ امراضِ داخلی، ماہرِ امراضِ چشم اور ماہرِ امراضِ قلب شامل ہوں گے۔ عدالت نے ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی طبی عمل کا حصہ رہنے کی اجازت دی ہے۔
عدالتی حکم کے تحت عمران خان سے اہل خانہ کی ہفتہ وار ملاقاتوں اور لندن میں مقیم ان کے بیٹوں سے فون پر بات چیت کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت تک ان کے اہل خانہ، پارٹی اور وکلا کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے عوامی سطح پر گفتگو کرنے سے روک دیا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقلی کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی سزا یافتہ شخص کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق قانونی دائرہ کار کے مطابق نہیں ہے۔ عمران خان کا علاج نجی اسپتال کے بجائے کسی سرکاری اسپتال میں کرایا جائے۔
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں ، انہیں القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ کیس میں سزائیں ہو چکی ہیں ، تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق قید کے اوائل دنوں میں عمران خان سے ان کے اہلخانہ اور وکلاء کی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ 8 ماہ سے عمران خان سے ان کے اہلخانہ کو ملاقات نہیں کرنے دی گئی ، دو دن قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عظمیٰ خان نے عمران خان سے ملاقات کی۔
