چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کسی بھی بیمار قیدی کو علاج کی سہولت ملنا اس کا بنیادی حق ہے، یہ معاملہ سپریم کورٹ تک نہیں جانا چاہیے تھا بلکہ حکومت کو خود ہی اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا واضح مؤقف ہے کہ اگر کوئی قیدی بیمار ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔ یہ ہر قیدی کا حق ہے کہ بیماری کی صورت میں اسے مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومتی وزرا کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے دیکھا ہے، تاہم یہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک پہنچنے سے پہلے ہی حکومت کو حل کر لینا چاہیے تھا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمان اور پارلیمانی عہدوں کو عزت دی ہے اور چاہتی ہے کہ پارلیمان فعال ہو کر اپنا کام شروع کرے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پارلیمانی کمیٹیوں کے بائیکاٹ کے باعث پارلیمانی عمل متاثر ہو رہا ہے، کمیٹیوں کو فعال کرنا ضروری ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو اعتماد کے ساتھ پارلیمان میں بھیجا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ عوام نے جن کاموں کے لیے نمائندوں کو ایوان میں بھیجا ہے، وہ کام کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابی اصلاحات میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں انتخابی عمل پر سوالات اٹھا رہے ہیں، اس لیے ہم سب کا فرض ہے کہ انتخابی اصلاحات میں اپنا کردار ادا کریں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے اور اپنی شکست بھی خوشی سے تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرز اور ان کے درمیان قربت بڑھی ہے اور محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔
ن لیگ سے تعاون پر تحفظات
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے اعتراضات دور کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے رابطہ کیا۔ “ہم ن لیگ کے ساتھ اس وقت تک تعاون نہیں کریں گے جب تک ہمارے اعتراضات دور نہیں کیے جاتے۔”
ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کے معاملات پر ن لیگ کے ساتھ تعاون کیا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ تعاون کے موڈ میں نہیں۔
بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم کے انتخاب سے پہلے جو سیاسی معاہدے طے ہوئے تھے، کیا وہ پورے ہوئے؟ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پیپلز پارٹی کے بغیر قانون منظور کر سکتی ہے تو کر لے، لیکن پھر صدر مملکت سے اس پر دستخط بھی کروا لے۔ انہوں نے کہا کہ “کیا اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟”
نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی کا واضح مؤقف
نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ اس وقت صوبوں کے معاملے پر کوئی تجویز پیپلز پارٹی کے سامنے نہیں آئی، جبکہ سندھ کے نئے صوبوں کے حوالے سے موقف سب کو معلوم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں اتفاق رائے موجود نہیں ہوگا وہاں نئے صوبے نہیں بن سکتے۔ زور زبردستی کا فیصلہ نہ پہلے کبھی مانا ہے اور نہ آئندہ مانیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جنہیں آئینی حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ صوبہ نہیں چاہیے، جب گلگت بلتستان کے عوام کو ان کا آئینی حق ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبوں کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور ہوچکی ہیں، اس لیے وہ سندھ کی قراردادوں کی مخالفت کیسے کرسکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے معاملے پر عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
پارلیمان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں
بلاول بھٹو نے کہا کہ پارلیمان کو بہت سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، اس لیے پارلیمانی ادارے کو مضبوط اور فعال بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ اس وقت ان ہاؤس تبدیلی پر نہیں بلکہ پارلیمان کو فعال بنانے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنا کام شروع کرے۔
26ویں اور 27ویں ترمیم پر حکومت کو تنقید
بلاول بھٹو نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ حکومت نے ان ترامیم کے بارے میں نہیں بتایا بلکہ انہوں نے خود اس معاملے سے آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے اس حوالے سے حکومت کے طرز عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں تو ہوں گے، “مگر دال میں کچھ کالا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ ہے تو آج نہیں تو کل سامنے آ جائے گا۔
آزاد کشمیر انتخابات پر شدید تحفظات
آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر انتخابات ایک حساس علاقے کا معاملہ ہیں اور انتخابات جتنے غیر متنازع ہوتے اتنا ہی بہتر ہوتا، لیکن موجودہ انتخابات زیادہ متنازع ہوئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر کے صدر کی جانب سے پیپلز پارٹی پر حملہ ہوا جبکہ وفاقی وزرا کا پورا لشکر وہاں موجود تھا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے دوران “میرے لوگوں کو گولیاں لگیں۔”
انہوں نے کہا کہ انتخابات ابھی مکمل نہیں ہوئے لیکن پہلے ہی متنازع ہوچکے ہیں۔ اگر مسلم لیگ ن کو اتنی متنازعہ حکومت چاہیے تو انہیں مبارک ہو۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے صدر یہ کہتے کہ وہ حلف نہیں لیتے تو کیا ہوتا؟ اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے حلف اٹھایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں پاور شیئرنگ کا فارمولا ان کے لیے مشکل ہوگا اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی جبکہ مسلم لیگ ن حکومت چلائے گی۔
پیپلز پارٹی پر حکومت کی سہولت کاری کے الزام پر جواب
بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ کسی کی رائے ہوسکتی ہے کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کی سہولت کاری کی، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ رکاوٹ ڈالتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگر پیپلز پارٹی کے بغیر قانون منظور کرسکتی ہے تو کرے، لیکن پھر اسے صدر مملکت سے دستخط بھی کروانا ہوں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پارلیمان اپنا کام کرے اور سیاسی جماعتیں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ حکومتی تعاون کے موڈ میں نہیں، آزاد کشمیر میں اپوزیشن میں بیٹھے گی اور نئے صوبوں کے معاملے پر اتفاق رائے کے بغیر کوئی فیصلہ قبول نہیں کرے گی۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ محسن نقوی سیاست میں زیادہ تجربہ نہیں رکھتے، انہیں سیاسی معاملات کو سمجھنے کے لیے وقت دینا چاہیے اور ایک بھائی کو دوسرے بھائی سے نہیں لڑانا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “اس سسٹم کو تباہ کیا گیا ہے، ریڑھ کی ہڈی کو ٹھوکتے رہتے ہو، پھر کہتے ہو سسٹم تباہ ہوگیا۔”
انہوں نے کہا کہ سسٹم کے مکمل کولیپس ہونے کی بحث ایک اکیڈمک ڈیبیٹ ہے، اس پر کسی اور وقت بات کی جاسکتی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کی ایران میں سازش کو ناکام بنانے میں کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی سازش بھی ناکام بنانی چاہیے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل اس وقت ایران سے متعلق معاملے میں مصروف ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنے قومی مفادات اور خطے کے امن کو سامنے رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال شفاء انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے، درخواست گزار چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے درخواست دائر کی۔
عمران خان کی اسپتال منتقلی ، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی، یہ حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے، اس پر نظرثانی ہونی چاہیے۔
