عدلیہ کا مذاق اڑایا گیا، طلال چوہدری کیس کا تفصیلی فیصلہ

طلال چوہدری توہین عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری |humnews.pk

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان  نے طلال چوہدری توہین عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں  قرار دیا گیا ہے کہ طلال چوہدری کی تقاریر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہیں جو آئین کے آرٹیکل 204  اور توہین عدالت آرڈیننس کے سیکشن 18 کے تحت قابل سزا ہیں۔

جسٹس گلزار احمد کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے خلاف توہین آمیز الفاظ  سے ناصرف عدلیہ کا وقار مجروح ہوا بلکہ عدالت کو  اسکینڈ لائز بھی کیا گیا اوراس کا مذاق  اڑایا  گیا اسی لیے طلال چوہدری آئین  کے آرٹیکل 204  اور توہین عدالت کے سیکشن 3 کے تحت مجرم قرار پائے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں: طلال چودھری کو سزا سنا دی گئی، پانچ برس کے لیے نااہل

عدالت کے مطابق  ملزم کے وکیل نے عدالت سے درگزر کی استدعا کی اور عدالتی درگزر کی نظائر بھی پیش کیں، فیصل رضا عابدی اور خادم حسین رضوی کی تقاریر کا حوالہ بھی دیا گیا  لیکن ہر کیس کی نوعیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، کچھ مقدمات پر صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا جاسکتا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توہین آمیز الفاظ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کے تناظر میں ادا کیے گئے۔

فیصلے کے مطابق توہین عدالت آرڈیننس کے سیکشن 3  اور 5  کے تحت عدالت برخواست ہونے تک طلال چوہدری کو قید کی سزا سنائی گئی جبکہ انہیں ایک لاکھ  روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔


متعلقہ خبریں