متحدہ عرب امارات نے میزائل حملے کے بعد ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، تجارتی تبادلے اور مالی لین دین تاحکمِ ثانی معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے ایران پر میزائل حملے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے ملک کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا۔ پہلا میزائل امارات کی علاقائی حدود کے باہر گرا جبکہ دوسرا میزائل علاقائی پانیوں میں جا گرا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت اور مالی معاملات کی معطلی کا فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کی ڈائریکٹر برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشنز افرا الحمّلی کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔
ایرانی حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے، یو اے ای
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات امن، مذاکرات، تعاون اور علاقائی انضمام کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کی سالمیت کا تحفظ بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی قوانین اور عالمی معیار کی پاسداری جاری رکھی جائے گی۔
یو اے ای کا بڑا فیصلہ، شہریوں کے ایران، لبنان اور عراق کے سفر پر پابندی عائد
ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طویل عرصے سے اہم تجارتی اور مالی روابط موجود رہے ہیں، اس لیے اس فیصلے کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اقدام کے نتیجے میں ایران کے ساتھ اماراتی تجارت، تجارتی ادائیگیوں اور مالیاتی لین دین پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
