اسلام آباد: ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے دوران آشوب چشم کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کے دوران آئے روز ہونے والی بارشوں اور کھڑے بارانی پانی کے باعث جہاں مختلف متعدی بیماریاں پھیلتی ہیں، وہیں آنکھوں کے انفیکشن کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
کئی علاقوں میں تو آشوب چشم وبا کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو بچوں اور بزرگوں سمیت ہر عمر کے لوگوں کو برابر متاثر کرتا ہے اور ایک سے دوسرے شخص تک بآسانی پھیلتا ہے۔
یہ شیرخوار بچوں کو بھی متاثر کرتا ہے جن کے لیے اس انفیکشن کے باعث آنکھوں میں اٹھتے درد کو برداشت کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین امراض چشم کے مطابق فضا میں نمی، گرد و غبار، آلودہ پانی اور جراثیم کی افزائش کی باعث آنکھیں بیکٹیریا اور وائرس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، اس لیے اس موسم میں خصوصی احتیاط ضروری ہے۔
آشوب چشم کی عام علامات میں آنکھوں کا سرخ ہونا، سوجن، درد، جلن، مسلسل پانی آنا، خارش اور دھندلا دکھائی دینا شامل ہیں۔
اگر یہ علامات شدت اختیار کر جائیں یا کئی روز تک برقرار رہیں تو فوری طور پر ماہر امراض چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔ آنکھوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے لیے بار بار ہاتھ دھونا اور گندے ہاتھوں سے آنکھوں کو چھونے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روزانہ 1300 بچے غذائی کمی کے باعث موت کا شکار ہو رہے ہیں، وفاقی وزیر صحت کا انکشاف
علاوہ ازیں، ماہرین امراض چشم اس انفیکشن سے متاثرہ شخص کو گھلنے ملنے سے منع کرتے ہیں کیونکہ یہ متعدی مرض کی طرح ایک سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتا ہے۔
