امریکا ایران جنگ بندی کے لیے اسلام آباد ایم او یو کی 60 روزہ مدت ختم ہو گئی ، مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روز میں مذاکرات مکمل کیے جانے تھے۔
اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں ، پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ مدت 17 جون کو پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مقرر کی گئی تھی۔ اس معاہدے سے فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی تھی۔
معاہدے میں آبنائے ہرمز ، ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں سے متعلق معاملات شامل تھے
14 نکاتی معاہدے میں فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز، امریکی بحری ناکہ بندی، پابندیوں، ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد ایرانی اثاثوں سے متعلق معاملات بھی شامل کیے گئے تھے، جن کی تفصیلات حتمی معاہدے کا حصہ بننا تھیں۔
معاہدے پر دستخط کے چند روز بعد سوئٹزرلینڈ میں امریکا، ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہوئے۔ فریقین نے جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی، تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے رابطہ کاری گروپس بھی قائم کیے۔ تاہم معاہدہ جلد ہی مشکلات کا شکار ہو گیا۔
جولائی میں دونوں ممالک کے ایکدوسرے پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کشیدگی کا مرکز بن گئی
واشنگٹن اور تہران نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ، جولائی میں دونوں ممالک نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ یوں آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکز بن گئی۔
بدھ کو اناطولیہ نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں فریقوں نے ثالثوں کو جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے لیے اپنی رضامندی سے آگاہ کیا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق توسیع کی حتمی مدت طے کرنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی جاری رہا، تاہم توسیع کے بغیر جنگ بندی معاہدے کی مدت ختم ہو گئی۔
ایران نے بعد ازاں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔
امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اسلئے توسیع کی ضرورت نہیں ، عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’اسنا‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ، اس لیے ایسا کوئی 60 روزہ جنگ بندی معاہدہ موجود نہیں جس میں توسیع کی ضرورت ہو۔
17 اگست کی صبح تک پاکستان، امریکا اور ایران نے نہ تو کسی حتمی معاہدے کا اعلان کیا تھا اور نہ ہی 60 روزہ مذاکراتی مدت میں توسیع کی مشترکہ تصدیق کی تھی۔ اس کے باوجود پاکستان اور قطر واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارت کاری بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
