کراچی: سندھ حکومت نے محکمہ اسکول تعلیم میں گھوسٹ ملازمین کے خلاف بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 6 اضلاع میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی چہرے کی شناخت کے ذریعے ڈیجیٹل حاضری شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
حکومت کے فیصلے کے مطابق یہ نظام 17 اگست سے کراچی شرقی، حیدرآباد، عمرکوٹ، نوشہروفیروز، جیکب آباد اور گھوٹکی میں نافذ کیا جائے گا۔ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی حاضری ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ریکارڈ کی جائے گی۔
حکام کے مطابق ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی۔ غیر حاضر ملازم کو پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا اور مسلسل غیر حاضری کی صورت میں مجموعی طور پر 3 شوکاز نوٹس دیئے جائیں گے۔
حتمی شوکاز نوٹس کے باوجود تسلی بخش جواب نہ دینے والے ملازم کو گھوسٹ ملازم قرار دے کر ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں اسکول نہ جانیوالے بچوں کا سراغ لگانے کیلئے گھر گھر گنتی کا فیصلہ
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل حاضری کے نظام کا مقصد محکمہ اسکول تعلیم میں حاضری کے نظام کو شفاف بنانا، گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ اور سرکاری تعلیمی اداروں میں عملے کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔
