خیبرپختونخوا حکومت نے اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے صوبے میں گھر گھر جاکر بچوں کی گنتی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی موجودگی میں تعلیم، لوکل گورنمنٹ، صحت اور سماجی بہبود کے محکموں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت چاروں محکمے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں 5 سے 16 تقریباً 49 لاکھ بچوں میں سے 26 لاکھ اسکول نہیں جاتے اسکول سے باہر بچوں کی درست تعداد، ان کے مقامات اور دیگر معلومات کے لیے ون میپ نظام تشکیل دیا جائے گا، جس کی مدد سے بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جاسکے گی۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسکول سے باہر 60 فیصد بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے سرکاری، کمیونٹی اور ڈبل شفٹ اسکولز سے استفادہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
بریفنگ کے مطابق غربت کے باعث اسکول چھوڑنے والے بچوں کو وظائف اور سماجی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ 14 سے 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کو فنی تربیت دینے کا بھی انتظام کیا جائے گا تاکہ وہ ہنر حاصل کرکے بہتر روزگار کے مواقع حاصل کرسکیں۔
پنجاب کے طلبہ کیلئے بڑی سہولت، رزلٹ کارڈز ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ
منصوبے کی نگرانی کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر اسٹیئرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔
بچوں کو دیے جانے والے وظائف کی ادائیگی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی، تاکہ بچوں کا اسکولوں میں داخلہ برقرار رکھنے اور باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنے کو یقینی بنایا جاسکے۔
