یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
پاکستان میں آزادی کے سفر کی رائیگانی اور حصولِ منزل کی ناکامی کے احساس کے بلیغ اظہار کے لیے ہر سال اگست میں معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے ان مصرعوں کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔
اس سال بھی یوم آزادی لوٹ آیا ہے، پاکستان کا 80واں یوم آزادی، مگر اس سوال کیساتھ کہ عام پاکستانی کے لیے زندگی ویسی ہی ہے جو ایک سال قبل تھی؟ اکثریت کی معاشی حالت کے تناظر میں شاید اس سوال کا جواب ہاں میں ہو۔
بنیادی وجہ یہ ہے کہ معیشت کی ترقی اور تشکیل کا انحصار سیاست اور سیاسی حالات اور پالیسیوں پر ہے کیونکہ سیاست کی صورت گری اور سمت کا تعین ریاست کرتی ہے۔
گزشتہ ایک برس میں ریاست، سیاست اور معیشت کا پنڈولم امید اور ناامیدی کے درمیان ڈولتا رہا ہے۔ ریاست کے درینہ مسائل نے سیاست اور معیشت کو دو قدم اگے اور ایک قدم پیچھے کی کیفیات سے دوچار کیے رکھا ۔
Prisoner of Geography جیسی عالمی اصطلاح باقی دنیا کی نسبت پاکستان کے لیے بیک وقت خطرات اور امکانات کی حامل ہے۔ گزرے ایک برس کے دوران پاکستان کا منظر نامہ خطرات اور امکانات دونوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔
پاکستان کی مغربی سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی ایک برس کے دوران محدود جنگ میں بدل گئی۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی پیچیدہ اور دو انتہاؤں کو چھوتی تاریخ میں پہلی بار اس ہمسائے کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نچلی ترین سطح پر ہیں۔ جس کی جڑیں تاریخی بے اعتباری میں ہیں۔ اگست 1947 میں آزادی کے بعد جب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے ممبر بننے کے معاملے پر رائے شماری ہوئی تو افغانستان کا ووٹ پاکستان کے خلاف تھا۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہمارے مشرقی ہمسائے بھارت کے ساتھ بھی ہماری مخاصمت کا اغاز اسی دور میں ہوا۔ اس اختلاف کی شدت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم نے آپنا یوم آزادی بھی بھارت کے برعکس 14 اگست کو منانے کا فیصلہ کیا اور وہ بھی قائد اعظم کی زندگی میں۔
گزشتہ برس پاکستان کی آزادی کی تقریبات میں ہندوستان کو معرکہ حق میں شکست دینے اور عسکری میدان میں ناقابل یقین کامیابی سے حاصل ہونے والا احساس تفاخر کا رنگ نمایاں تھا۔
ہندوستان کے ساتھ اتنی مخاصمت کی طویل تاریخ میں پہلی بار بھارت کی اندرونی سیاست اور عالمی سفارت کاری میں اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کامیابی اور ناکامی کا ایک حوالہ بن گئے ہیں۔ مئی 2025 کی جنگ کے بعد امریکہ سمیت یورپی طاقتوں کی جنوبی ایشیا کے بارے میں ترجیحات کے تعین میں پاکستان بھارت سے ایک درجہ اوپر رہا ہے۔
ہمارے تیسرے ہمسائے ایران پر امریکی جارحیت اور مشرق وسطی میں lجاری علاقائی جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی عالمی سفارت کاری کے نتیجے میں ملنے والی سفارتی پذیرائی اور نئی شناخت کا احساس اس بار کے یوم ازادی پر حاوی ہے۔
پاکستانی ریاست کی اس نئی علاقائی اور عالمی پہچان کے اندرونی اثرات نے ’ہارڈ سٹیٹ‘ کے تصور کو مزید راسخ کر دیا ہے ۔
گزشتہ برس بھارت کی بالادستی کے مقابلے میں ہماری کامیابی نے اندرونی سیاسی تنازعات اور کمزوریوں کو پس منظر میں دھکیل دیا تھا۔ رواں برس امریکہ اور ایران جنگ میں پاکستان کے مصالحانہ کوششوں اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کی غیر معمولی ستائش نے حکومت مخالف سیاسی قوتوں کے لیے عوامی احتجاج اور تحریک کے لیے ماحول کو ناموافق بنا دیا۔
5 اگست 2023 سے مختلف کیسز میں سزا بھگتنے والے عمران خان کی جماعت نے اس سال جنوری میں بزرگ سیاست دان محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں جبکہ ناصر عباس کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بنا کر مزاحمتی سیاست کا مورچہ گرم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔
اپنے بے باک انداز اور متنازعہ مسائل پر دو ٹوک موقف رکھنے والے محمود خان اچکزئی 8 ماہ میں گرم گفتاری سے اگے نہیں بڑھ سکے۔ البتہ انہوں نے اپوزیشن کا سوچ اور مزاج رکھنے والی شخصیات اور پارٹیوں کو تحریک تحفظ ائین پاکستان کے پلیٹ فارم پر متحد ضرور کر دیا ہے۔
ماضی میں نواب زدہ نصر اللہ خان مرحوم اپوزیشن کی مختلف الخیال پارٹیوں کو جوڑ کر سیاسی نتائج پیدا کر لیا کرتے تھے لیکن اچکزئی کی شخصیت ابھی تک اس کرشمے سے محروم ہے۔
سیاسی طور پر اپوزیشن اور حکومت مخالف کوششوں کے بے ثمر ہونے کی ایک وجہ شاید 27ویں ترمیم کو بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس نے ماضی میں حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والی عدلیہ کو اس کھیل سے باہر کر دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (فضل) اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں کے تعاون سے نومبر 2025 میں ہونے والی ترمیم کے نتیجے میں وفاقی آئینی عدالت کا جنم ہوا۔
2006 میں پاکستان کی سیاسی قوتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی میں وفاقی آئینی عدالت کے خیال سے اتفاق کیا تھا۔ مگر آئینی ماہرین میں اس کی ہیٔت، اختیارات اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے متوازی کردار کی وجہ سے جمہوری تقاضوں کے منافی قرار دیا تھا۔
پاکستانی عدلیہ میں افتخار محمد چوھدری کی عہدے پر بحالی کی تحریک کی کامیابی کے بعد انتظامیہ اور مقننہ کے اختیارات اور حدود پر عدلیہ کی جانب سے مداخلت کے نتیجے میں جو جوڈیشل ایکٹیوازم پیدا ہوا تھا اسے 27 ویں ترمیم نے مقید کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے کارکن اور عمران خان کی بہنیں ہر منگل کو بانی سے ملاقات کے مطالبے پر اڈیالہ جیل کو جانے والے راستوں پر حکومتی جبر اور تشدد سہ کر بھی ان سے ملاقات میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
تحریک انصاف کے مثالیت پسند لوگوں نے نوجوان سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کے اقتدار پر بٹھا کر اٹک کے پار سے نئی حکمت عملی کے ساتھ زیادہ جارحانہ سیاسی اور احتجاجی پیش قدمی کا پیغام دیا تھا۔
مگر اس جماعت کی اندرونی کھینچا تانی اور مفادات کے ٹکراؤ نے کسی نتیجہ خیز تحریک کے امکانات کو پنپنے نہیں دیا۔
27 ستمبر کو اسلام اباد کی طرف مارچ کا اعلان تحریک انصاف کی جانب سے اپنی قوت کو مجتمع کرنے اور حکومت اور اس کی اتحادی جماعت کے ساتھ شکررنجی سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے وفاقی حکومت کے ساتھ اڑھائی بر س سے تلخ اور شیری حالات میں نبھانے کے بعد لہجے میں آنے والی تلخی اور سختی لوگوں کے خیال میں سیاسی موسموں کا اشارہ ہے۔ گلگت بلتستان اور ازاد کشمیر کے الیکشن کے بعد نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان مجبوریوں اور مصلحتوں کے بند دروازوں کے پیچھے اختلافات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
جوان سال بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن کے دوران استعمال ہونے والا لب و لہجہ، الفاظ اور سیاسی اشارے حکومت کے لیے کوئی خوش منظر تشکیل نہیں دے رہے۔
دونوں جماعتوں کو ناگوار یک رشتے میں پرونے والے اور اس نظام کو چلانے والے طاقت ور حلقوں کے مفاد کا تقاضہ ہوا تو الزامات کی یہ گرد بیٹھ جائے گی۔
پاکستان کی ریاست اور حکومتی سیاست کے ایک پیج پر ہونے کے باوجود بنیادی معاشی ڈھانچے کی اصلاح نہ ہو سکی۔ خلیج کی جنگ کی وجہ سے توانائی کی رسد میں پڑنے والے خلل پر قابو پانے کے لیے تیل کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے نظام نے کروڑوں شہریوں کی زندگیاں مشکل بنا دی ہیں۔
جنگ کے عالمی معاشی اثرات میں بھی بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیل زر میں خاطر خواہ اضافے نے مشکل میں گھری کمزور پاکستانی معشیت کو کسی قدر سنبھالا دیا۔ اس کا اثر پاکستانی روپے کی قدر کے استحکام کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ ہمارے پڑوسی بھارت میں اس جنگ نے برسوں بعد اس کی کرنسی کی قیمت میں خاطر خواہ کمی کی ہے۔
میاں محمد شہباز شریف کی حکومت کے قیام کے بعد یہ تیسرا جشن ازادی ہے۔ اس اقتدار کے اڑھائی برسوں سے حاصل شدہ اعتماد اور نظام کی مضبوطی کے تاثر پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے تشویش اور اضطراب کی لہریں پیدا کی ہیں۔ طاقتور حلقوں کے ساتھ مثالی تعلقات کے ماحول میں بے انتظامی اور ’نئی یونٹوں‘ کے قیام کی بحث مسلم لیگ نون کی حکومت کے لیے سیاسی اور نفسیاتی چیلنج ہے ۔
اسی ماحول میں پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدے نے ریاست کے لیے امکانات اور علاقائی فوائد کے دروازے کھول دیے ہیں۔ امن، استحکام اور دفاع کے تصور پر کھڑے اس سہ فریقی تعاون کے معاہدے نے مقتدرہ اور حکومت کے درمیان اندرونی اور بیرونی ایجنڈے پر قریبی تعاون اور معاملات پر ہم خیالی کا پیغام دیا ہے۔ ان حالات میں اس طرح کی کامیابی کا ایک فائدہ سیاسی معاملات اور اختلافات کی افواہوں کی گرد کو صاف کرنے کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی ریاست، سیاست اور معیشت کے باہمی تعلق سے تشکیل ہونے والی قومی تصویر کے کچھ رنگ مدھم ہیں۔ مگر اس کا سب سے خوش کن پہلو ہماری سوسائٹی میں مشکلات کے مقابل ڈٹ جانے اور مایوسی کے آگے ہتھیار نہ ڈالنے کا غیر معمولی جذبہ اور جدوجہد کا داعیہ موجود ہے۔
اس باعث ہمارے سماج کے امید پرست اور کل کی بہتری کے خواب دیکھنے والے ان اشعار سے مستقبل کا نقشہ کھینچتے ہیں:
خدا کرے مرے ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے آندیشہ زوال نہ ہو
