تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا سے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی تک بات چیت نہیں ہو گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ تہران اور مسقط کے درمیان ایک معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، تاہم معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے امریکا کو 6 شرائط پیش کر دیں
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کھولے جانے کے بعد بحری جہازوں کے لیے استعمال ہونے والے نئے بحری راستوں کی وضاحت کی جائے گی۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کو پہلے عبوری معاہدے میں طے شدہ دیگر شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
