واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹول عائد کرنے کا منصوبہ نہیں ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، تاہم امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ایرانی حلقے آبنائے ہرمز میں گزرنے والے جہازوں پر محصول عائد کرنے کی بات کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے انہیں بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ٹول عائد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امید ہے خلیج سے تیل اور گیس کی ترسیل جنگ سے قبل کی سطح پر بحال ہوجائے گی۔ جبکہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم مجوزہ معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان زیرغور معاہدے میں امریکی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدے کا اسلامی ممالک کی جانب سے بھرپور خیرمقدم، اہم پیشرفت قرار دے دیا
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی تقسیم کا سابقہ نظام تہران کے لیے قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے راستے کی ضرورت ہے۔
