بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حمایت شکیب الحسن کو مہنگی پڑ گئی۔
بنگلہ دیشی حکومت نے سابق کپتان شکیب الحسن کی دوبارہ کرکٹ کھیلنے کے لیے وطن واپسی کے امکانات مسترد کردیے ہیں، حکومت کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ساتھ ایک میڈیا ایونٹ میں شرکت کے بعد شکیب الحسن کے لیے بنگلہ دیش واپس آکر کرکٹ کھیلنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
شکیب الحسن نے بدھ کے روز نئی دہلی میں شیخ حسینہ کی جانب سے منعقدہ میڈیا ایونٹ میں ٹیلی فون کے ذریعے شرکت کی تھی، شیخ حسینہ نے حکومت سے برطرفی کے تقریباً دو سال بعد صحافیوں سے گفتگو کی تھی۔
Bangladesh government says former captain Shakib Al Hasan has no prospect of returning to play after participating in a media event featuring ousted prime minister Sheikh Hasina.#Asiaone #Asiaonenews #ShakibAlHasan #BangladeshCricket #Cricket pic.twitter.com/xYUOv1U7TJ
— ASIA ONE NEWS (@AsiaOne_News) August 7, 2026
بنگلہ دیش کے وزیر کھیل و نوجوانان امین الحق نے کہا کہ حکومت اس سے قبل شکیب الحسن کے معاملے کو کافی لچک اور برداشت کے ساتھ دیکھ رہی تھی تاہم شیخ حسینہ کے ساتھ حالیہ میڈیا ایونٹ میں شرکت کے بعد ان کے لیے واپسی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
دوسری جانب شکیب الحسن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دے تو وہ وطن واپس آنے، عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنے اور اپنی شرائط کے مطابق الوداعی سیریز کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
39 سالہ شکیب الحسن اس وقت سری لنکا میں فرنچائز کرکٹ کھیل رہے ہیں، وہ گزشتہ دو برس سے امریکا میں مقیم ہیں، سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے خلاف مظاہرین پر پولیس کریک ڈاؤن سے متعلق قتل کے مقدمات میں تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے نتیجے میں شکیب سمیت سابق حکومت سے وابستہ متعدد افراد کو قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔
ورلڈ کپ 2027 کے میزبان ممالک کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا اعلان
شکیب الحسن بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 400 سے زائد بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں اور پانچ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
