ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے کے امن و استحکام کے لیے ہے۔
رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے، سکیورٹی تعاون بڑھانے اور خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔
Bugün Suudi Arabistan Veliaht Prensi ve Başbakanı Muhammed bin Selman’ın nazik davetine icabetle Mekke-i Mükerreme’ye bir ziyaret gerçekleştirdik.
Ziyaretimde aziz kardeşlerim Suudi Arabistan Veliaht Prensi ve Başbakanı Muhammed bin Selman ve Pakistan Başbakanı Şahbaz Şerif’le…
— Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) August 7, 2026
صدر اردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر مکہ مکرمہ کے دورے کے دوران انہوں نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی، جس کے بعد تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اجتماعی دفاعی صلاحیت کی بنیاد پر سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے، دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون میں معاون ثابت ہوگا۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کے حق کی بھی توثیق کرتا ہے، تاہم اس کا ہدف کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ خطے کے امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کے لیے تعاون کا راستہ کھولنا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم سنگِ میل ہے،سعودی وزیر خارجہ
صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون کے احترام، مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی اصولی مؤقف جاری رکھے گا۔
انہوں نے دعا کی کہ مکہ کا دورہ، رہنماؤں کے درمیان مشاورت اور طے پانے والا معاہدہ پورے خطے کے لیے باعثِ خیر و برکت ثابت ہو۔
