واشنگٹن، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آج یا کل ایک معاہدہ ہونے کا امکان ہے، جس کے تحت 30 سے 60 روز کی جنگ بندی کی جاسکتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرط بھی شامل ہوگی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین کے درمیان معاہدہ طے پانے کی صورت میں خطے میں کشیدگی کم ہوگی اور عالمی منڈیوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ معاہدے کے تحت 30 سے 60 دن کی جنگ بندی ہوگی، جس دوران امریکا اور ایران کے درمیان مزید بات چیت اور معاملات کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔
امریکی وزیر خزانہ نے آبنائے ہرمز کھولنے کو بھی مجوزہ معاہدے کا اہم حصہ قرار دیا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور اس کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے معاہدے کے قریب ہیں ، جنگ جلد ختم ہو جائے گی ، ڈونلڈ ٹرمپ
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں توانائی کی قیمتوں میں کمی آنی چاہیے، ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پائی جارہی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق مجوزہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
