امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے بات چیت جاری ہے ، جنگ بہت جَلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا، ایران اور عمان عارضی معاہدے کے قریب ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں شامل ہیں اور معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کے باعث امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ امریکا کے پاس گولہ بارود کی بڑی مقدارموجود ہے ، امریکا کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکا کی رضامندی کے بغیر ایران تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے اختلافات اور کشیدگی کی خبروں کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی سے انتہائی خوش ہیں۔
واضح رہے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے امریکی فوج کے اہم میزائلوں اور گولہ بارود کی شدید کمی پر سخت سوالات کیے۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر دیا ، ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں ، ایرانی فوج
اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم میزائلوں کے ذخائر تیزی سے استعمال کیے۔ صرف پہلے مہینے میں امریکی فوج نے 850 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل، ایک ہزار سے زیادہ پیٹریاٹ اور تھاڈ انٹرسیپٹر میزائل اور 1300 سے زائد اے ٹی اے سی ایم ایس میزائل استعمال کیے۔
رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ اے ٹی اے سی ایم ایس میزائلوں کا ذخیرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اب بنیادی طور پر کچھ بھی باقی نہیں بچا۔
