انسانی اعضاء کی غیر قانونی فروخت کے مقدمے میں گرفتار تین چینی باشندوں نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا، درخواستوں پر سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر یاورگردیزی عدالت میں پیش ہوئے اورمؤقف اختیار کیا کہ اسی نوعیت کی ضمانت کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دوسرے بینچ میں پہلے سے زیر سماعت ہیں، لہٰذا موجودہ کیس بھی اسی بینچ کو منتقل کیا جائے۔
وکیل نے استدعا کی کہ تینوں ملزمان کی درخواست ضمانت بھی جسٹس محمد اعظم خان کے بینچ میں بھجوا دی جائے تاکہ ایک ہی نوعیت کے مقدمات کی سماعت ایک ہی بینچ کرے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ جس بینچ میں کیس منتقل کرنے کی درخواست کی جارہی ہے، اس کے جج موسم گرما کی تعطیلات پر ہیں اور وہاں سماعت میں تقریباً ایک ماہ لگ سکتا ہے۔
وکیل کی جانب سے کیس دوسرے بینچ کو منتقل کرنے پر اصرار کیا گیا، جس پر عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے متعلقہ فائل بینچ کی تبدیلی کیلئے چیف جسٹس آفس بھجوا دی۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے تینوں ملزمان لی گنگ چائی، پنگ فی گوو اور وانگ باؤ کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔
اسلام آباد میں انسانی اعضا کی خرید و فروخت کا کیس؛ غیر ملکیوں سمیت 5 ملزمان کا ریمانڈ منظور
تینوں ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی فروخت کے الزام میں مقدمہ درج ہے۔
اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں تینوں ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت کیلئے بینچ کی تبدیلی کا معاملہ چیف جسٹس آفس کے سامنے جائے گا، جہاں سے آئندہ کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ جون 2026 میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد زون نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی اعضا فروشی کا نیٹ ورک بے نقاب کردیا، گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث اہم ڈاکٹر سمیت 9 ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گردہ اسمگلنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے ٹیم نے اسلام آباد کے ایک معروف نجی اسپتال پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے 9 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
جن میں ایک معروف یورولوجسٹ اور نجی اسپتال کا ایک ملازم بھی شامل ہے جنہیں اس غیر قانونی نیٹ ورک کے مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے، جہاں غیر قانونی طور پر گردے نکالنے کے آپریشن کیے جا رہے تھے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ موقع پر موجود کئی افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں مبینہ گردہ عطیہ کرنے والے، وصول کنندگان اور اسپتال کا عملہ شامل تھا۔
