لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔
یہ معاہدہ آج مکہ مکرمہ میں طے پایا، جس کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مسلم دنیا کے اتحاد کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین سے دنیا کو واضح پیغام ملا ہے کہ مسلم دنیا متحد ہے۔
Makkah Al-Mukarramah Summit for Joint Defence.
At the gracious invitation of the Custodian of the Two Holy Mosques King Salman bin Abdulaziz Al Saud, the President of the Republic of Türkiye, H.E. Mr. Recep Tayyip Erdoğan, and the Prime Minister of the Islamic Republic of… pic.twitter.com/tYwKZq2EKK
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) August 7, 2026
انہوں نے کہا کہ تین بڑی معاشی، عسکری اور سیاسی طاقتوں کا ایک پلیٹ فارم پر آنا پوری امتِ مسلمہ کے لیے خوشخبری ہے، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمِ اسلام میں تعاون اور اجتماعی سلامتی کے نئے باب کا آغاز ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی سطح پر مسلم اتحاد اور اجتماعی سلامتی کا علمبردار رہے گا، جبکہ اس معاہدے نے اس اصول کو تقویت دی ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے اسلامی دنیا کے اتحاد پر مہر ثبت ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر منعقدہ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے۔
اجلاس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی، جبکہ قصر الصفا میں ولی عہد نے دونوں رہنماؤں کا استقبال کیا۔

سربراہی اجلاس میں تینوں ممالک کے دیرینہ تعلقات، تزویراتی شراکت داری، دفاعی تعاون اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور کا جائزہ لیا گیا۔ رہنماؤں نے دفاع، سلامتی اور تزویراتی تعاون کو نئی جہت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” پر دستخط کیے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدے کا مقصد اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو وسعت دینا اور خطے و دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ مشترکہ دفاع، فوجی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا، پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ
تینوں ممالک نے محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
