وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت گیس سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے عالمی بینک کے تعاون سے گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن اور جامع اصلاحات کا روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اصلاحاتی منصوبے کا اہم حصہ سوئی کمپنیوں کی تنظیم نو (ری اسٹرکچرنگ) اوران بنڈلنگ ہے، جس کے تحت سوئی کمپنیوں کے ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اورانرجی کاروبارکوالگ الگ کیا جائے گا تاکہ کارکردگی، شفافیت اوراحتساب کو بہتر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ گیس پر دی جانے والی سبسڈی کے نظام کوازسرنو ترتیب دیا جائے گا تاکہ حکومتی ریلیف صرف مستحق صارفین تک محدود رہے۔
اس کے علاوہ گیس مارکیٹ میں مرحلہ وارمارکیٹ کلیئرنگ پرائس متعارف کرانے کی حکمت عملی اپنائی جائے گی، جس سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت اور مسابقت کو فروغ ملے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی بینک نے اصلاحاتی عمل کے لیے تکنیکی معاونت، بین الاقوامی تجربات اور پالیسی رہنمائی فراہم کی ہے جبکہ گیس سیکٹر اصلاحات کا مکمل روڈ میپ رواں ماہ منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت گیس سیکٹر میں مسابقتی، شفاف اور مؤثر مارکیٹ قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ریگولیشن کے ساتھ مضبوط ریگولیٹری نظام تشکیل دیا جائے گا اور اوگرا کے کردار کو مزید مؤثر بنا کر مارکیٹ کی نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔
مہنگائی کے ستائے شہریوں کیلئے اچھی خبر، آٹے کی قیمت میں کمی
انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحاتی پروگرام سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور شمولیت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، توانائی کا تحفظ مضبوط ہوگا، قیمتوں میں شفافیت آئے گی اور سوئی کمپنیوں کی مالی پوزیشن مستحکم ہونے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
