علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملکی حالات اور صوبوں کے قیام پر جاری بحث پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت سے کبھی مسائل نہیں ہوسکتے، بلوچستان اور خبیر پختونخوا کیساتھ کشمیر کی صورتحال بھی بہتر نہیں، اور صوبے بنانا آسان کام نہیں ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانا ایک انتظامی معاملہ ہے، دنیا کے بیشتر ممالک میں نئے صوبے بنتے ہیں لیکن ہمیں پہلے اپنے ملک کی ساخت دیکھنی چاہیے۔
گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان سے ملکی نظام کے “ڈھ جانے” اور گڈ گورننس کے لیے “صوبے کہیں یا انتظامی یونٹس” کے قیام کی بحث چھیڑنے والے وزیر داخلہ محسن نقوی کے بارے میں مولانا نے کہا کہ یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ یہ بات ذاتی حیثیت میں کی گئی ہے یا وزیر اعظم کی “آشیرباد” سے یا “کابینہ کی اجازت” سے یا “کسی اور طرف سے۔”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن کیا ملک اس بات کے لئے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ عوام سے پوچھا جائے کہ وہ نیا صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر فیصلہ مشاورت سے ہونا چاہیے، ہر صوبے کے عوام کا ردعمل آنا باقی ہے، قوموں کی شناخت کو نظر نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔ “یہ کوئی کیک تو نہیں ہے کہ آپ آرام سے چھری لے کر اس کو جس طرح چاہیں کاٹ دیں۔”
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں میں اضطراب ہے، عوام پریشان ہیں، اور حالات ایسے ہیں کہ لوگ اپنے علاقوں میں اور اپنے گھروں میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔
انہوں نے کہا کہ طاقت سے کبھی مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکہ مزید الجھتے ہیں، “پہلے تو ہم صرف خیبر پختونخوا یا بلوچستان کی بات کرتے تھے، اب تو کمشیر کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے، وہاں پر بھی ایک اضطراب ہے۔”
مولانا کا کہنا تھا کہ کشمیر کے عوام ہمیں آواز دے رہی ہے کہ ہمارے مسئلے کو حل کریں لیکن اس پر بھی حکومت کی طرف سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہو رہا، نہ اس پر کوئی جواب آ رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک چلانے والے اس صورتحال سے غافل ہیں، اور ایسی کوئی قومی پالیسی نہیں ہے کہ ہم سب مل کر ملک کو اس بحران سے نکالنے کا سوچیں۔
مولانا نے محمود اچکزئی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بطور اپوزیشن لیڈر وہ ملکی سطح کا “پوری اپوزیشن” کا اجلاس طلب کریں، جس میں ہم مل کر ملک میں جاری بحراںوں پر غور کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرمحمود خان اچکزئی اجلاس نہیں بلا سکیں گے تو پھر “جمیعت علمائے اسلام پورے ملکی سطح پر آل پارٹیز [اجلاس] کی طرف جائے گی”۔
انہوں نے شکایتی لہجے میں کہا کہ دنیا میں سارے نظام ناکام ہوچکے ہیں، جمہوریت اور آمریت دونوں ناکام ہوچکی ہیں، لیکن پاکستان میں سیاستدانوں کو موقع نہیں دیاگیا، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہوچکی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے، تمام مسائل کا حل آئین ہے، ہم پر جبری طور پر حکومت مسلط نہیں ہونی چاہیے۔
