قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے حوالے سے کہا ہے کہ اب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، تاہم آنے والے گھنٹوں یا دنوں میں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران ماجد الانصاری نے کہا کہ تمام متعلقہ فریق ایک قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس وقت سب سے اہم مقصد مذاکراتی عمل کی بحالی ہے۔
ترجمان قطری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنا اور سفارت کاری کو دوبارہ فعال بنانا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کی جانب واپسی کے لیے جنگ بندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور تمام فریق ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئے حملے سے اجتناب اور خطے میں استحکام برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
أبرز ما جاء في الإحاطة الإعلامية الأسبوعية للدكتور ماجد بن محمد الأنصاري @majedalansari مستشار رئيس مجلس الوزراء المتحدث الرسمي لوزارة الخارجية#الخارجية_القطرية pic.twitter.com/5YwNtUTsWc
— الخارجية القطرية (@MofaQatar_AR) August 4, 2026
ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی مکمل طور پر برقرار رہے اور تجارتی و بحری جہازوں پر کسی قسم کے حملے نہ ہوں، کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس آبی گزرگاہ کی سلامتی نہایت اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قطر، پاکستان اور عمان سمیت ثالث ممالک اس معاملے پر باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں، یہ ممالک فریقین کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے، تجاویز اور مسودوں کے تبادلے اور اعتماد سازی کے اقدامات میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے قریب کارگو جہاز پر حملہ؛ ایک انجینئر لاپتا
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام سفارتی کوششوں کا مرکز کشیدگی سے بچاؤ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلا رکھنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
