فرانس اور برطانیہ کی بحری امدادی ٹیموں نے بحر اوقیانوس میں ایک کشتی کے آگ کی لپیٹ میں آنے کے بعد ریسکیو آپریشن کر کے 157 تارکینِ وطن کو بچا لیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کشی انگلش چینل عبور کرنے کے دوران آگ لگنے کے باعث حادثے کا شکار ہوئی۔ گزشتہ ہفتے اسی چینل میں ایک کشتی حادثے نے تین تارکین وطن کی جان لی تھی۔
فرانس کے پاس دے کلے (Pas-de-Calais) ریجن کے حکام کے مطابق کشتی فرانس اور برطانیہ کی سمندری حدود کے درمیان آگ کا شکار ہوئی، جس کے باعث سوار افراد کو سمندر میں چھلانگ لگانا پڑی۔ حکام نے بتایا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فرانسیسی بحری حکام سے رپورٹ کیا ہے کہ تارکینِ وطن پیر کے روز نارمنڈی کے ساحلی گاؤں ویول-لے-روز (Veules-les-Roses) سے روانہ ہوئے تھے۔
157 migrants jump into the sea as their boat catches fire in the English Channel
All of them reportedly have been rescued pic.twitter.com/Io8UdJsifi
— RT Intl (@RT_on_X) August 4, 2026
ایجنسی کے مطابق برطانوی کوسٹ گارڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے جہاز اور ایک لائف بوٹ امدادی کارروائی میں شریک رہے، جبکہ رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن (RNLI) نے بھی صبح 6 بجے ایک لائف بوٹ روانہ کی۔
ان کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ گواہوں کا کہنا ہے کہ اب پہلے کے مقابلے میں بڑی کشتیاں استعمال ہو رہی ہیں، جن کی لمبائی تقریباً 12 میٹر تک ہوتی ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق کشتیوں میں سوار ہونے والے تارکین وطن کی اوسط تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے، جو 2021 میں 26 تھی جبکہ رواں سال کے آغاز سے یہ بڑھ کر 65 ہو چکی ہے۔
فرانس طویل عرصے سے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم مرکز رہا ہے۔ انسانی اسمگلرز کو ہزاروں ڈالر ادا کر کے یہ افراد گنجائش سے تعداد میں کشتیوں میں سوار ہو کر دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کا خطرناک سفر اختیار کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 41 ہزار سے زائد تارکینِ وطن برطانیہ کے جنوبی ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جو 2018 کے بعد دوسری بڑی تعداد ہے۔
رواں سال اب تک کم از کم 14 افراد انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 29 رہی تھی۔
