لندن: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانا اور جی 20 میں شامل کرنا حکومت کا ہدف ہے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں، برطانوی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔
ملکی معیشت پر انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت میں اب استحکام آچکا ہے اور معاشی استحکام کے بعد حکومت کی توجہ ترقی اور شرح نمو بڑھانے پر مرکوز ہے۔ معاشی ترقی سے فی کس آمدنی اور عوام کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دوبارہ 2017 کے معاشی اشاریوں تک لے جانا ہے، جبکہ ملک کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانا اور جی 20 میں شامل کرنا حکومت کا ہدف ہے۔ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل چکا ہے، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ مہنگائی 30 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے۔
پالیسی ریٹ پر انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 11 فیصد پر آگیا ہے اور پاکستان کی معیشت کا پہیہ چل پڑا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر بھی اہم مقام حاصل کرچکا ہے اور سفارتی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کررہا ہے۔
برطانیہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
دولت مشترکہ کے اجلاس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دولت مشترکہ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور رکن ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں تعاون کی پیشکش کی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے گزشتہ سال شاندار بہادری کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا ایران تنازع میں سفارتی کوششیں کیں اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، کیونکہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ مذاکرات اور سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہ رہی ہے اور آج پاکستان کو خطے میں امن کے داعی ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

