کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابانِ بخاری کی ایک رہائشی عمارت میں خواتین کے جھگڑے کے معاملے پر پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ‘انکوائری میرٹ پر کی جائیگی۔’
اس بیان سے قبل واقعے کی نئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی جس میں پولیس اہلکار مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کے بھائی کو گھسیٹتے ہوئے لے جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعے 9 دن قبل پیش آیا تھا جو گزشہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد منظر عام پر آیا۔
کراچی: بااثر’’سالی آدھی گھر والی‘‘ سالی کی سندھ پولیس افسران تک مبینہ رسائی، پڑوسیوں پر ظالمانہ تش دد کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی!
ڈیفنس خیابانِ بخاری میں خواتین کے مبینہ جھگڑے کے بعد نئی فوٹیج سامنے آگئی، جس میں پولیس اہلکار پڑوسیوں کو گھسیٹتے دکھائی دے رہے ہیں، زخ می نورالعین… pic.twitter.com/P4SY9Nvksk
— Ishtiaq Ali (@IAmIshtiaqAli) August 29, 2026
واقعے سے متعلق پہلے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں باوردی پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں دو خواتین کو لڑتے دیکھا گیا تھا۔ فوٹیج میں ایک خاتون دوسری خاتون پر لوہے کے ڈمبل سے تشدد کرتی بھی نظر آئی۔
ذرائع نے ڈمبل سے تشدد کرنے والی خاتون کا ایک اعلیٰ پولیس افسر سے رشتہ داری کا دعویٰ کیا ہے۔
فوٹیج میں ایک سادہ لباس شخص کو پولیس اہلکاروں کے ہمراہ آتے اور مبینہ طور پر کلاشنکوف سے سی سی ٹی وی کیمرہ توڑتے بھی دیکھا گیا۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کیمرہ توڑنے کا حکم پولیس افسر کی مبینہ رشتے دار خاتون نے دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق واقعے میں تشدد کا نشانہ بننے والے بہن بھائی اپنی والدہ کے ہمراہ فلیٹ میں رہائش پذیر تھے۔ جھگڑے کی ابتدا مبینہ طور پر ایک دوسرے کی جگہ پر گاڑی پارک کرنے سے ہوئی۔
Dated 21/08/2026
*🚨کراچی: خیابان چھوٹا بخاری*
متعلقہ اداروں کو اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے، تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف ایکشن لیا جا سکے اور عوام کو انصاف فراہم ہو. pic.twitter.com/OaXXao2ugI
— UROOJ khan lodhi (@AyeshaHerbv1) August 28, 2026
واقعے کے بعد اعلیٰ پولیس افسر کے مبینہ رشتے داروں نے پڑوسی بہن بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کرا کے انہیں گرفتار بھی کرایا۔ ایف آئی آر میں خاتون اور اس کے بھائی پر طلائی زیورات چھیننے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
نئی فوٹیج میں نوجوان کو گرفتار کرکے لے جاتے وقت ایک کالی ڈبل کیبن گاڑی بھی وہاں موجود دکھائی دیتی ہے، جبکہ پولیس اہلکار ایک نوجوان کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے نظر آتے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نوجوان متاثرہ لڑکی کا بھائی ہے جسے پولیس مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔
زخمی خاتون کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں انہیں زخمی اور خوف زدہ حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں نور العین نے کہا کہ ان کی ناک اور منہ سے خون نکل رہا تھا، بال نوچے گئے اور آنکھ پر بھی زخم آیا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان فلیٹ چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہوگیا جبکہ انہوں نے درخشاں تھانے میں درخواست بھی جمع کرائی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی انکوائری میرٹ پر کی جائے گی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایس پی انوسٹی گیشن ساؤتھ معاملے کی انکوائری کررہے ہیں جبکہ مقدمے سے چوری اور چھینا جھپٹی کی دفعات خارج کردی گئی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں کے طرز عمل کی بھی جانچ جاری ہے۔

