سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ راولاکوٹ سے متعلق کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ کشمیری نہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں جلسے سے خطاب کے دوران راولاکوٹ کے عوام سے متعلق اپنے متنازعہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں، کیونکہ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مہاجرین کی مخصوص نشستیں ختم نہیں ہونے دے گی اور مہاجرین آزاد کشمیر کے اصل وارث ہیں۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ ایکشن کمیٹی خون خرابے میں ملوث ہے، حالانکہ حکومت اس کے تمام مطالبات پہلے ہی تسلیم کر چکی تھی۔ ایکشن کمیٹی کو 24 سے 25 ارب روپے بھی فراہم کیے گئے، تاہم یہ عناصر مشکوک اور غیر ملکی فنڈنگ پر چل رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن آئندہ آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خواجہ آصف کے مبینہ متنازعہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا تھا کہ وزیر دفاع کو کابینہ سے فارغ کیا جائے۔
اس سے قبل خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی نے سسٹم کی کسمپرسی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ہوں۔ سسٹم کا ارتقائی عمل دہائیوں سے ذاتی مفادات کے تابع ہے اور اس سسٹم کو آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی تبدیلی کا اصل فورم پارلیمنٹ یا کابینہ ہے اور محسن نقوی کابینہ کے رکن ہیں۔ اس کو کابینہ میں بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ اس سے ادارے مضبوط ہوں گے اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نقوی صاحب پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاس کبھی کبھار ہی اٹینڈ کرتے ہیں۔ جبکہ محسن نقوی ساڑھے 3 سال سے طاقتور عہدوں پر فائز ہیں۔ چاہتے تو نظام میں تبدیلی پر پیشرفت کرسکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حکمرانوں کو آج احساس ہوا کہ ملک نہیں چل رہا، شاہد خاقان عباسی
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔ اور صرف تاجر برادری ہی نہیں پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔
