عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو آج احساس ہوا کہ ملک نہیں چل رہا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان شدید معاشی بحران، بڑھتی غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ہر پاکستانی چار سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ غریب ہو چکا ہے، جبکہ ملک میں بے روزگاری گزشتہ 21 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اعداد و شمار بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ غربت اپنی بدترین سطح پر ہے، اگرچہ حکومت غربت کی شرح 21 فیصد بتاتی ہے لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران عوام کی آمدن میں مسلسل کمی آئی ہے، جبکہ مہنگائی کے باعث ہر گھرانے کی قوتِ خرید میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھایا ہے اور چند سال قبل 30 ہزار روپے کا ٹیکس اب بڑھ کر 60 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔
تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جگہ بیٹھنا پڑے گا، نئے صوبوں سمیت ایک ایک مسئلہ حل کرنا پڑے گا، جب تک اکٹھے نہیں بیٹھیں گے یہ ملک اسی حالت میں رہے گا، محسن نقوی کا پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب pic.twitter.com/R3Cem8Mbwq
— Shahid Abbasi (@ShahidabbasiPk) July 30, 2026
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ واضح معاشی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، کیونکہ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت صرف نئے ٹیکس لگانا جانتی ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کب کون سا نیا ٹیکس نافذ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ معاشی بدحالی کے باعث ملک کا نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جا رہا ہے، جبکہ بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
زرعی شعبے پر بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ کسان تباہ ہو چکے ہیں جبکہ اصل فائدہ مڈل مین کو پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت زراعت کے لیے مؤثر پالیسی بنانے میں ناکام رہی، جس کے باعث ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کو گندم دوسرے ممالک سے درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کو4، 5سال بعداحساس ہواکہ ملک نہیں چل رہا، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکمرانوں کو چار سے پانچ سال بعد احساس ہوا ہے کہ ملک درست طریقے سے نہیں چل رہا حالانکہ عوام کافی عرصے سے یہی مسائل اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کی بات شروع ہوتے ہی تنقید شروع ہو جاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک نہ مالی طور پر مستحکم ہے، نہ اصلاحات پر آمادگی نظر آتی ہے۔
انہوں نے صحت کے شعبے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 25 فیصد بچوں کو بنیادی حفاظتی ویکسین بھی میسر نہیں، جبکہ آٹھ ہزار بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، جو ریاستی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
طورخم بارڈر کے ذریعے مزید 110 پاکستانی طلبہ اور 592 کارگو گاڑیاں بحفاظت وطن واپس پہنچ گئیں
سابق وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں حقیقی اصلاحات کا کوئی ذکر نہیں، حالانکہ اصلاحات کے بغیر نہ معیشت سنبھل سکتی ہے اور نہ ہی بڑھتے قرضوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق صرف نئے صوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پورے نظام کو آئین اور قانون کے مطابق چلانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ترجیحات عوامی فلاح کے بجائے سرکاری مراعات اور اخراجات تک محدود ہیں، جبکہ ملک کو قانون کی حکمرانی، شفاف نظام اور مؤثر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے زور دیا کہ آئین کی بالادستی اور قانون کے یکساں نفاذ کے بغیر پاکستان ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔
