بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پیپر لیکس کے معاملے پر مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے اور اس حوالے سے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور سخت سزاؤں سے متعلق تجاویز کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔
نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پیپر لیک واقعے کے بعد گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران کئی مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ ملوث افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری تھی کہ طلبہ کا تعلیمی سال ضائع نہ ہو۔
بھارتی وزیراعظم کے مطابق حکومت نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے 22 لاکھ طلبہ کے امتحانات کم سے کم وقت میں دوبارہ منعقد کرانے کو یقینی بنایا، جبکہ 19 جولائی کو نتائج بھی جاری کر دیے گئے۔
مودی نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ پیپر لیک کیسز کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا منصوبہ تیار کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ تجویز، جس میں فاسٹ ٹریک عدالتوں اور سخت سزاؤں کی شقیں شامل ہیں، کابینہ اجلاس میں زیر بحث آئے گی۔
Strict laws on paper leaks, justice for students.
Clean intent, strong system, fast-track action.
Modi’s clear message: No mercy for those who toy with children’s futures as India builds a reliable exam system.@narendramodi ji 🔥🔥🔥🔥 pic.twitter.com/yoYAri96gl— Rajul Pandya (@irajulpandya) July 31, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ کے ارکان کی تجاویز کے بعد اس بل کو حتمی شکل دی جائے گی اور پارلیمنٹ کے دوسرے ہفتے کے آغاز کے بعد کوشش کی جائے گی کہ اسے جلد از جلد ایوان سے منظور کرایا جائے۔
واضح رہے کہ بھارت میں پیپر لیک کا معاملہ گزشتہ چند برسوں میں ایک بڑا تعلیمی اور سیاسی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ مختلف سرکاری بھرتیوں اور داخلہ امتحانات کے پرچے امتحان سے پہلے لیک ہونے کے الزامات کے بعد طلبہ، والدین اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شفاف امتحانی نظام کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ عرصے میں سب سے زیادہ توجہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے تحت ہونے والے امتحانات پر مرکوز رہی، خاص طور پر NEET-UG (میڈیکل داخلہ امتحان) اور UGC-NET سے متعلق تنازعات کے بعد۔ طلبہ نے امتحانی عمل میں بے ضابطگیوں، سوالیہ پرچے کے افشا اور نتائج سے متعلق اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد حکومت کو تحقیقات اور اصلاحات کے اقدامات کرنا پڑے۔
بھارتی حکومت نے پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے Public Examinations (Prevention of Unfair Means) Act, 2024 منظور کیا۔ اس قانون کا مقصد سرکاری اور قومی سطح کے امتحانات میں نقل، دھوکہ دہی اور پرچے لیک کرنے والے افراد اور گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کا نظام قائم کرنا ہے۔ قانون میں جرمانوں اور سزاؤں کی شقیں شامل ہیں۔
سعودی عرب کا کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کی جانب اہم قدم، 43 ممالک کے نمائندوں کی شرکت
حکومت کا مؤقف ہے کہ پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت قوانین، تحقیقات اور تیز رفتار عدالتی کارروائی سے امتحانی نظام میں شفافیت بحال ہوگی، جبکہ اپوزیشن اور طلبہ تنظیمیں امتحانات کے انعقاد، نگرانی اور انتظامی خامیوں پر بھی سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے پبلک ایگزامینیشن بل کی منظوری کو اسی تناظر میں امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا اقدام قرار دیا ہے۔
