اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے آنجہانی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے ساتھ مل کر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے سابق چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مبینہ سازش کی تھی۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکتوبر 2024ء کی ایک آڈیوریکارڈنگ حال ہی میں منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں مبینہ طورپرنیتن یاہو اپنے خلاف ممکنہ وارنٹِ گرفتاری رکوانے یا اس میں تاخیرکیلئے مختلف اقدامات پرگفتگو کرتے سنے جا سکتے ہیں۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران کریم خان کے خلاف سامنے آنے والے جنسی بدسلوکی کے الزامات کو بھی دباؤ بڑھانے کے ایک ذریعہ کے طور پراستعمال کرنے کی تجویز زیرِ بحث آئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آڈیو برطانوی فلم سازایلکس ہولڈر سے حاصل کی گئی جس میں نیتن یاہوامریکی قانون سازوں سے آئی سی سی کے خلاف دو جماعتی مؤقف اختیارکرنے کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں۔
مزید دعویٰ کیا گیا کہ لنڈسے گراہم نے ڈیموکریٹ اورریپبلکن سینیٹرزکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ عدالت پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود آئی سی سی نے نومبر 2024ء میں نیتن یاہو اوراسرائیل کے سابق وزیرِدفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹِ گرفتاری جاری کردیئے تھے۔
سعودی وزیر دفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات ، ولی عہد کا پیغام پہنچایا ، امریکی میڈیا
رپورٹ کے مطابق کریم خان نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی ہمیشہ تردید کی تاہم جولائی 2026ء میں آئی سی سی کے رکن ممالک کی ووٹنگ کے بعد انہیں چیف پراسیکیوٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
رپورٹ میں پیش کئے گئے ان دعوؤں پرمتعلقہ فریقین کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
