ریاض: سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کی، جس میں بحری سلامتی کو درپیش چیلنجز اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق اجلاس میں 43 ممالک کے سربراہانِ عملہ اور نمائندوں کے علاوہ سعودی عرب میں تعینات یورپی یونین کے وفد نے شرکت کی، جبکہ مجموعی طور پر 51 ممالک اور تنظیموں نے براہ راست یا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔
اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے پیش کیے گئے کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے اقدام پر غور کیا گیا، جس کا مقصد بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ، سمندری سلامتی کے فروغ اور بحری خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہے۔
عاجل 🔴
▪️وزارة الدفاع تستضيف اجتماعا دوليا لمناقشة مبادرة المملكة لإنشاء التحالف البحري الدفاعي متعدد الجنسيات.
▪️الاجتماع شهد مشاركة واسعة لرؤساء الأركان وممثليهم من 43 دولة إلى جانب مندوبية الاتحاد الأوروبي لدى المملكة، وذلك من أصل 51 دولة ومنظمة تمت دعوتها.
▪️ ناقش… pic.twitter.com/23JEEXd23e
— خبر عاجل (@AJELNEWS24) July 30, 2026
شرکا نے تجارتی جہازوں، توانائی بردار ٹینکروں اور بحری بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات، بحری راستوں کی حفاظت اور عالمی سپلائی چینز کے استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بڑھتے ہوئے بحری خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کثیرالملکی دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ عالمی سمندری گزرگاہوں کی حفاظت اور بین الاقوامی تجارت کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق اجلاس کے دوران مجوزہ بحری اتحاد کے بنیادی ڈھانچے، تنظیمی ڈھانچے، قیادت، حکمت عملی اور مستقبل کے طریقہ کار پر بھی گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں شریک ممالک نے کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے بنیادی انتظامات مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق 14 ممالک نے اس اتحاد کے قیام کے منصوبے میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جن میں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، پاکستان، اومان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔
سعودی وزیر دفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات ، ولی عہد کا پیغام پہنچایا ، امریکی میڈیا
سعودی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ اتحاد علاقائی اور عالمی سطح پر سلامتی و استحکام کے فروغ، بحری تجارت کے تحفظ اور بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بحری سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے، آزادانہ بحری آمدورفت کے تحفظ اور عالمی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
