امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملے شروع کر دیئے ، ایران کے مختلف شہروں میں دھماکے سنے گئے۔
ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ رات 8 بجے ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ امریکی افواج ایران کے اندر موجود اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ روز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر ایران کے مبینہ حملوں کی کوشش کے جواب میں کی جا رہی ہے۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ ایران پر حالیہ حملے تہران کے اقدامات کے خلاف طاقتور اور فیصلہ کن ردِعمل ہیں۔
U.S. forces began launching strikes against Iran at 8 p.m. ET today. The strikes are a powerful response to yesterday’s attempted Iranian attacks on U.S. forces based in the Middle East.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 30, 2026
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق جنوبی ایران کے کئی مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک میزائل رہائشی علاقے میں گرا، تاہم جانی نقصان یا زخمیوں کے بارے میں فوری طور پر معلومات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب بوشہر صوبے میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جہاں ایران کا واحد جوہری بجلی گھر واقع ہے۔
اس کے علاوہ بندر عباس میں بھی 2 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ابوموسیٰ، کیش اور قیشم کے جزیروں سے بھی دھماکوں کی آوازوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایران کا سعودی عرب پر میزائل حملوں سے اظہار لاتعلقی
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جنوبی بندرگاہوں پر دوبارہ عائد کی گئی بحری ناکہ بندی کے تحت اب تک 20 تجارتی جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، اس ماہ کے آغاز میں بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد گزشتہ روز تک 18 جہازوں کا رخ موڑا گیا تھا، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2 تجارتی جہاز واپس بھیجے گئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے حملوں کا سخت جواب دینے کی دھمکی دی تھی۔
امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے اردن میں فوجی اڈے پر سرپرائزڈ میزائل حملے کیے تاہم امریکی فوج نے منٹوں میں ایران سے فائر کیے جانے والے مزائل مار گرائے۔
