آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں 52 دن کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔
سروس 5 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کو کالعدم قرار دینے کے بعد معطل کی گئی تھی۔ یہ احتجاجی تحریک خطے میں 2023 سے جاری ہے جس کے 38 میں سے بیشتر مطالبات بشمول آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی، حکومت نے 2024 میں منظور کر دیے تھے۔
آزاد کشمیر انتخابات: الیکشن کمیشن نے تمام 13 حلقوں کے نتائج جاری کر دیئے
بقیہ مطالبات کے لیے اکتوبر 2025 میں حکومت اور کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس پر عملدرآمد نہ ہونے کا الزام لگا کر کمیٹی نے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا۔
تاہم پانچ جون کو ہی کمیٹی کے ایک اور ممبر پر مبینہ حملہ ہوا جس کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اسی روز حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خطے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی تھی۔
سروس کی بحالی کا عمل میرپور ڈویژن سے شروع ہوا جہاں 27 جولائی کو ہونے والے آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے سے چار روز قبل 23 جولائی کو پوری ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی۔
الیکشن کے دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ ہو گی جس سے 3 روز قبل ڈویژن بھر میں انٹرنیٹ سروس بحال کردی گئی ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی مسلح جتھہ بن چکی ، شرپسندوں کیساتھ رعایت نہیں برتیں گے، ترجمان آزاد کشمیر پولیس
یہ ڈویژن 3 اضلاع مظفرآباد، نیلم، اور ہٹیاں بالا پر مشتمل ہے جبکہ یہاں 9 انتخابی حلقے ہیں۔ ان حلقوں کے ساتھ ساتھ 2 اگست کو مہاجرین مقبوضہ کشمیر کی 12 نشستوں پر بھی پولنگ ہو گی۔
دوسری جانب الیکشن کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے 9 نشستیں ن لیگ کے حصے میں آئی ہیں جبکہ 4 پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے۔
تاہم دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان مینڈیٹ پر تنازع شدت اختیار کر چکا ہے جہاں پیپلز پارٹی نے ن لیگ پر الیکشن میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
