ایران نے سعودی عرب پر میزائلوں حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے مطابق ایران کے ایک فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران سعودی عرب میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دیگر ممالک سے داغے گئے میزائلوں یا راکٹوں سے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
آئی آر آئی بی کے مطابق عہدیدار نے کہا کہ خطے میں امریکی مفادات کے خلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی کو ایران سے منسوب کرنا بڑی غلط فہمی ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ان کارروائیوں کو ایران سے منسوب کرنا خطے کی صورتِ حال سے آگاہی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
یہ بیان سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے نئے ڈرون حملوں کی اطلاع دینے کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا الزام سعودی حکام نے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹکام کے مرکز پر حملہ
سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے اس واقعے کو عراق سے کیا جانے والا ایک اور “دہشت گرد حملہ” قرار دیتے ہوئے اس کا الزام “ایران سے منسلک گروہوں” پر عائد کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب مناسب وقت اور مناسب مقام پر اس حملے کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
سینٹکام کی عراق میں ایران نواز گروپوں پر حملے تصدیق
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے عراق میں ایران نواز گروہوں پر حملے کی تصدیق کی ہے ،غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینٹکام کا کہنا ہے کہاس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
عراق کے نیم فوجی گروپ حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ان کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ جس میں 10 اہلکار ہلاک ہوئے۔
