آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان انتخابی نتائج اور مبینہ دھاندلی کے الزامات پر لفظی جنگ تیز ہوگئی۔
دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے الگ الگ پریس کانفرنسوں میں ایک دوسرے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
متنازع حلقوں میں نتائج پر نظرثانی کی جائے، راجہ پرویز اشرف
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 27 تاریخ کو میرپور ڈویژن کے انتخابات سے متعلق حقائق عوام کے سامنے رکھے، تاہم ان کی پریس کانفرنس پر مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں ان کی جماعت کے ساتھ زیادتی ہوئی اور اس حوالے سے ان کے پاس ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے انتخابی نتائج روکنے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
راجہ پرویز اشرف نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر ووٹوں کو جلانے اور ان کے کارکنوں کو تشدد کے ذریعے پولنگ اسٹیشنوں سے نکالنے کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے بتایا کہ پریس کانفرنس کے دوران ویڈیوز دکھانے کی کوشش کی گئی، تاہم پراجیکٹر میں فنی خرابی آنے کے باعث یہ ممکن نہ ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ ایل اے-12 اور ایل اے-5 سمیت بعض حلقوں میں غیر معمولی طور پر تقریباً تمام ووٹ کاسٹ ہونے کے نتائج سامنے آئے، حالانکہ متعدد ووٹرز بیرون ملک مقیم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوٹلی، نکیال اور دیگر حلقوں میں 88 سے 94 فیصد تک پولنگ اور بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹ مسترد نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا کہ تمام حلقوں کے بجائے صرف ان حلقوں کی دوبارہ جانچ کی جائے جہاں دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد مجروح ہوا تو اس کے جمہوری نظام پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس مختلف نوعیت کی سیکڑوں درخواستیں زیر غور ہیں اور بروقت فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں انتخابی نظام پر مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ان کے بقول، اگر ان کی جماعت کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو وہ اس کے خلاف ہر جمہوری فورم پر آواز بلند کریں گے۔
عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا ہی سیاست ہے، عظمیٰ بخاری
دوسری جانب لاہور میں ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سیاست کا تقاضا یہی ہے کہ عوام کے فیصلے کو قبول کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابی نتائج کے بعد ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور مریم نواز کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز بھی فراہم کیے گئے، تاہم وہ عوام کو اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں کر سکے۔
انہوں نے پنجاب حکومت کی مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گرین بس سروس، جدید سڑکوں کی تعمیر، معیاری تعلیمی ادارے اور طلبہ کو لیپ ٹاپ کی فراہمی حکومت کی کارکردگی کا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اپنی 18 سالہ کارکردگی کے بارے میں عوام کو جواب دے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ مریم نواز نے اپنی سیاسی مہم کے دوران کسی کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال نہیں کی، جبکہ بلاول بھٹو کی تقاریر میں دوسروں کی نقل کا تاثر ملتا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو پنجاب کا دورہ کرنے اور ترقیاتی منصوبے خود دیکھنے کی دعوت بھی دی۔
ن لیگ نے 2024 الیکشن میں بھی مینڈیٹ چوری کیا، شرجیل میمن
الیکشن پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری لفظی جنگ میں حصہ لیتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) 2024 کے عام انتخابات کی مبینہ دھاندلی کی پیداوار ہے اور اب آزاد کشمیر میں بھی اسی طرز کی حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
View this post on Instagram
شرجیل میمن نے الزام لگایا کہ میرپور ڈویژن کے بعض حلقوں میں 99 فیصد تک ٹرن آؤٹ جبکہ ایک حلقے میں 110 فیصد ووٹ ڈالے جانے کے نتائج سامنے آئے، جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چوہدری یاسین سمیت تین حلقوں کے نتائج دوبارہ کھول کر جانچے جائیں۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت، پارلیمنٹ اور نظام کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے، جبکہ مخالفین تنقید برداشت نہیں کر رہے۔
شرجیل انعام میمن نے صحافیوں سے متعلق بعض مبینہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے پنجاب حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صحافیوں کو آزادی سے کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابی عمل میں شفافیت کی حامی ہے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
