خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 32 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 28 اور 29 جولائی کی درمیانی شب ضلع خیبر میں خفیہ اطلاعات پر کارروائیاں کیں ، ٹارگٹڈ کارروائیوں میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو موثر انداز میں نشانہ بنایا جس میں فتنہ الخوارج کے 24 دہشتگرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بھی سکیورٹی فورسز نے متعدد کارروائیاں کیں ، جس میں فتنہ الہندوستان کے 8 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 24 خارجی دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
نوشکی میں ہلاک دہشتگردوں اور خارجیوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز آلات بھی برآمد کر لئے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے “عزمِ استحکام” کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشتگردی کے خلاف بھرپور مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
سوات میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن ، 4 دہشتگرد ہلاک ، ایلیٹ فورس کا کانسٹیبل شہید
دوسری جانب سوات کے علاقے مٹہ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے مشترکہ آپریشن میں 4 خارجی دہشتگرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ایلیٹ فورس کے جوان کانسٹیبل گلفام شہید ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے مٹہ کے علاقے راشد سر میں اسٹریٹجک پوائنٹ پر کامیابی کے ساتھ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 4 خوارج نے ایک مکان میں پناہ لے کر اہلِخانہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
