پاکستان کی خاتون باکسر فاطمہ زہرا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
انہوں نے منگل کو 60 کلوگرام کیٹیگری کے کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی جورڈن ولسن کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی، جس کے ساتھ ہی ان کا کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی ہو گیا۔
22 سالہ فاطمہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں راؤنڈز میں حریف کو قابو میں رکھا۔ پانچوں ججز نے مقابلہ ان کے حق میں دیا، جن میں سے چار نے 29-28 اور ایک نے 30-27 کے اسکور سے فیصلہ سنایا۔ کامن ویلتھ گیمز کے فارمیٹ کے تحت سیمی فائنل میں شکست کھانے والے کھلاڑی کو بھی کانسی کا تمغہ دیا جاتا ہے۔
A question we are getting quite a lot is when is Fatima Zahra’s next fight.
It is on July 31, at 19:30.
For now everyone in the boxing camp in Glasgow is overwhelmed, and taking this moment in.
Here is her video from Glasgow Commonwealth Games as she won her quarterfinal. pic.twitter.com/GuwOgY2L6R
— lostonthedesk (@Lostonthedesk) July 28, 2026
پاکستان کی خواتین باکسنگ ٹیم نے 2016 میں پہلی بار بین الاقوامی سطح پر قدم رکھا تھا اور ایک دہائی کے اندر یہ سنگ میل حاصل کرنا اس کھیل میں ملک کی پیش رفت کی واضح علامت ہے۔
فاطمہ زہرا کا کہنا تھا کہ “ہم باکسنگ میں ترقی کر رہے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔ یہ ہماری پہلی کامیابی ہے، ہم گولڈ میڈل کے لیے بھی پرامید ہیں اور یہ تمغہ پاکستان میں باکسنگ کے لیے بہت اہم ہوگا۔”
فاطمہ اب جمعہ کو سیمی فائنل میں کینیڈا کی میری باتھول الاحمدیہ کا سامنا کریں گی، جہاں کامیابی کی صورت میں وہ فائنل میں پہنچ کر سونے کے تمغے کے لیے مقابلہ کریں گی۔
View this post on Instagram
مرد باکسر نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکے
دوسری جانب پاکستان کے مرد باکسرز کوئی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ 60 کلوگرام مقابلے میں قدرت اللہ کو شمالی آئرلینڈ کے جوڈ گالاگھر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ ایونٹ سے باہر ہونے والے آخری پاکستانی مرد باکسر بن گئے۔
گالاگھر نے ابتدا ہی سے جارحانہ انداز اپنایا اور پہلے راؤنڈ میں برتری حاصل کر لی۔ دوسرے راؤنڈ میں قدرت اللہ کو سر نیچے رکھنے پر ایک پوائنٹ کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ آخری راؤنڈ میں انہوں نے بھرپور کوشش کی، تاہم گالاگھر نے دفاعی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ اپنے نام کر لیا۔ فیصلہ سنائے جانے پر قدرت اللہ مایوسی کے عالم میں گھٹنوں کے بل گر گئے۔
اتھلیٹکس اور سوئمنگ میں بھی پاکستان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ 400 میٹر دوڑ میں محمد اسماعیل 46 میں سے 41ویں نمبر پر رہے، جبکہ تیراک حمزہ آصف 50 میٹر بٹر فلائی ہیٹس میں 70 میں سے 46ویں پوزیشن حاصل کر سکے اور سیمی فائنل تک رسائی نہ پا سکے۔
