ملتان: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے افغان شہریوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) جاری کرنے کے الزام میں نادرا کے تین اعلیٰ افسران کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں ملتان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شعیب احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر رمیز رضا اور نادرا سروس سینٹر کوٹ ادو کے سپرنٹنڈنٹ نوید اسلم شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے افغان شہریوں کو پاکستانی خاندانوں کے شجر نسب میں شامل کرکے ان کے لیے قومی شناختی کارڈ جاری کرانے میں مبینہ سہولت فراہم کی۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتاریاں ملتان سرکل کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر یاسر خٹک کی نگرانی میں کارروائی کے دوران عمل میں آئیں۔
ادارے کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغان شہریوں کے شناختی دستاویزات کی غیر قانونی منظوری اور پراسیسنگ کی۔
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف فارنرز ایکٹ، نادرا آرڈیننس، پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی متعلقہ دفعات اور انسداد بدعنوانی قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، کروشیا تعلقات میں نئی پیش رفت: تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
گرفتار افسران کو مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے ملتان سرکل منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں مبینہ نیٹ ورک کے دائرہ کار اور اس میں ملوث دیگر افراد سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
