ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سات روزہ جنگ بندی کی تجویز پر امریکی صدر ٹرمپ کا ابتدائی رد عمل دیکھ لیا، اب ثالثوں سے واشنگٹن کے حتمی جواب کا انتظار ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عراقچی نے کہا کہ تہران نے نیویارک میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی شرائط پیش کی تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کو سمجھا دی گئی تھیں، جنھوں نے بعد ازاں انھیں امریکا تک پہنچایا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر امریکا کو ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنے ، تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز بھیجی تھی کہ اگر امریکا بعض شرائط پوری کرے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں، تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
واشنگٹن کا حتمی موقف جاننے کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے، عراقچی
عباس عراقچی نے کہا کہ ہم ثالثوں کے ذریعے حتمی مؤقف پہنچائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں اور اسی کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کسی بھی پیشرفت کا انحصار تہران کی شرائط پوری کیے جانے پر ہو گا، ہماری شرائط واضح ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے حل ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے، تہران نے سفارتی راستہ کھلا رکھا ہے۔
گزشتہ روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی تجویز مسترد کرتے ہوئے مشیروں سے کہا ہے کہ نومبر میں مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف تبدیل بھی ہو سکتا ہے، ممکنہ حملوں کی نوعیت واضح نہیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو اس بات پر یقین نہیں کہ تہران امریکی مطالبات تسلیم کرے گا تاہم امریکی حکام کے مطابق مستقبل میں صدر ٹرمپ کا مؤقف تبدیل بھی ہو سکتا ہے جبکہ ممکنہ دوبارہ حملوں کی نوعیت اور شدت بھی واضح نہیں ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کی تجویز میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کے بدلے امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کی بات شامل تھی۔
اس سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے ہونے والی بات چیت “مثبت اور تعمیری” رہی ہے۔



