واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے بحران کا خاتمہ چاہتا ہے۔ ایران اس وقت مشکلات کا شکار ہے اور وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ جبکہ امریکی صدر بھی ایران کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے۔
انہوں نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ایران کا رویہ درست نہیں اور وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔ جبکہ ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں لگتا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے ایم او یو پر دستخط کیے تھے لیکن ایران نے اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ لیکن امریکا ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کا خواہاں ہے اور خطے میں جنگ نہیں چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں کل روسی ہم منصب سے ملاقات ہو گی۔ اور چینی ہم منصب سے بھی اچھی ملاقات ہوئی جس میں ان سے تجارتی امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ فوج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی آپریشنز مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: طلبہ احتجاج: بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے مودی سے معافی کا مطالبہ کر دیا
گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران نے علاقائی اور عالمی تجارت کے لیے اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔
