وزیراعظم نے ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کو اعلیٰ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر وزیر اعظم برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلویز مسافروں اور مال برداری کے لیے سب سے کم لاگت اور مؤثر ذریعۂ نقل و حمل ہے،جدید اور مؤثر ریلوے نظام ملکی معیشت، تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
پی ڈبلیو ڈی کی بندش، کابینہ نے پاک چین ایم ایل ون فنانسنگ معاہدے کی منظوری بھی دیدی
پاکستان ریلویز کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری کا پاکستان کے علاقائی تجارت اور لاجسٹکس ہب کے طور پر کردار میں کلیدی کردار ہوگا۔
وزیراعظم نے مین ریلوے لائن ون کے روہڑی-ملتان سیکشن کی اپ گریڈیشن کے حوالےسے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے شرکا کو ایم ایل-1 اور ایم ایل-3 اپ گریڈیشن، تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی اور دیگر منصوبوں کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔
اسلام آباد: 20 جولائی، 2026.
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز مسافروں اور مال برداری کے لیے سب سے کم لاگت اور مؤثر ذریعۂ… pic.twitter.com/xsY7Fa1BpL
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) July 20, 2026
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم ایل-1 کے کراچی۔روہڑی سیکشن کے لیے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل کر لی گئی ہے ،ایم ایل 3 روہڑی-نوکنڈی کی اپ گریڈیشن پی ایس ڈی پی اور برج فنانسنگ تحت کی جائے گی۔
تھرکول ریل کنینٹیویٹی منصوبے کا 112 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک تھر کول تا چھور ریلوے اسٹیشن پر 60 فیصد کام ہو چکا اور یہ منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔
ایم ایل ون منصوبہ، آغاز سے قبل ہی 11 ارب روپے خرچ ہو گئے
وزیراعظم کی ہدایت پر ریلوے کی اصلاحات کے لئے بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں،ریلوے کے ماتحت اسکول اور ہسپتالوں کی سروسز کو آوٹ سورس کیا جا چکا ہے، جبکہ چھ بڑے ریلوے اسٹیشنوں کی کمرشلائزیشن پر کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
