امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات حملے مکمل کر لیے جس میں میزائل و ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے متعدد امریکی ڈرونز اور کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاع اور ساحلی نگرانی کے مقامات، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا۔
سینٹکام نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہی ہے۔ سینٹکام کی فورسز بدستور انتہائی چوکس، اپنے مشن پر مرکوز، مہلک کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر مستعد ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جن 5 شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ان میں شمال مغربی ایران کا اہم شہر تبریز اور دو اہم بندرگاہی علاقے بھی شامل ہیں۔
عراق میں ایرانی ڈرون حملہ، ایک اور امریکی فوجی ہلاک
مقامی شہریوں اور صحافیوں کے مطابق تبریز، جنوب مشرقی ساحلی شہروں چابہار اور کنارک، جبکہ جنوب مغربی توانائی مراکز بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی میں بھی دھماکے ہوئے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے متعدد امریکی ڈرونز اور کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے ، اس کے علاوہ صوبہ لرستان سے دشمن اہداف کی جانب میزائلوں کی نئی لہر داغی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اردن کے عقبہ ائیرپورٹ پر امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 آئل ٹینکر بھی دھماکے سے تباہ ہو گئے۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ شام کے علاقے التنف میں دشمن کے کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا ہے۔ کمانڈ سینٹر پر حملہ شہید فوجیوں کے خون کا بدلہ ہے۔
