وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان صحت اور فارماسیوٹیکل کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے اور حکومت ویکسین اور ادویات کی مقامی تیاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
اگلے 2 ماہ میں جعلی اور مہنگی ادویات کی فروخت 99 فیصد بند ہو جائے گی ، مصطفیٰ کمال
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حالیہ کانفرنس کی کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار بنایا گیا ہے اور حکومت نے نئے کاروبار کی رجسٹریشن سمیت مختلف محکموں سے متعلق امور کو آسان اور تیز تر بنایا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو سہولت میسر آئے۔
وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی تعاون اور کاروباری شراکت داری کے نتیجے میں نہ صرف صحت کے شعبے میں جدید سہولیات آئیں گی بلکہ مقامی صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فارماسیوٹیکل صنعت میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
درکار صحت کی سہولیات کیلئے پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، مصطفیٰ کمال
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ کانفرنس کے دوران مجموعی طور پر 600 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے طے پائے، جبکہ صحت کے شعبے میں 16 اہم معاہدوں اور 80 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں سے ویکسین، ادویات، طبی آلات اور صحت کی جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دینے میں مدد ملے گی۔
پانچ سال بعد ہم آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ دیں گے، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیرِ صحت نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان صحت کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا، جس سے ملک کا نظامِ صحت مضبوط اور عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ممکن ہوگا۔
