کراچی: آل گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ کی ملک گیر ہڑتال آج تیسرے روز میں داخل ہو گئی ہے اور مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی۔
آل گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات 3 سے 4 گھنٹے تک جاری رہے، تاہم فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔
انہوں ںے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ اور وہ چاہتے ہیں حکومت خود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کرے۔
گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے نمائندوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے آج مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، تاہم ابھی تک ان کے مطالبات پر حتمی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری اور متعلقہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی اور نوٹیفکیشن جاری ہونے سے قبل ہڑتال کی کال واپس نہیں لی جائے گی۔
واضح رہے کہ ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ ڈیزل کی قیمت روزانہ کے بجائے ماہانہ بنیاد پر مقرر کی جائے، یکم جون 2024 کے ٹول ٹیکس نرخ بحال کیے جائیں اور ٹول ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔
ٹرانسپورٹرز نے آئندہ ایک سال تک نئے ٹول پلازے قائم نہ کرنے، گڈز ٹرانسپورٹرز پر عائد 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 2 فیصد کرنے اور ملک بھر میں ایکسل لوڈ قوانین کے یکساں نفاذ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اوورلوڈنگ کی روک تھام سورس پوائنٹس سے کی جائے جبکہ کسٹمز قانون واپس لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کیلئے بڑا جھٹکا، ستمبر سے بجلی نرخ بڑھنے کا امکان
ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مکمل طور پر پرامن ہے، حکومت مطالبات تسلیم کرکے ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ کا نظام بحال کرے۔
