ساؤتھ ایشین وائسز نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر وہ سفارتی کردار اداکیا جو بڑی طاقتیں ادا نہ کرسکیں۔
ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے براہِ راست مذاکرات کیے۔ پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی رابطوں اور اپنی جغرافیائی اہمیت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔

ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور امریکا و ایران دونوں کے ساتھ اس کے روابط نے اسے مؤثر ثالثی کے لیے منفرد مقام فراہم کیا۔ پاکستان کے پاس فریقین پر دباؤ ڈالنے کے بجائے دونوں جانب رسائی، اعتماد اور بروقت سفارتکاری کی طاقت موجود تھی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کرکے ایک عالمی طاقت اور ایک اہم علاقائی طاقت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی اور وہ سفارتی کردار ادا کیا جو چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتیں بھی ادا نہ کرسکیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 2026 میں بھی اپنی سفارتی رسائی اور جغرافیائی اہمیت کو امن کے لیے استعمال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کا راستہ کھولنے میں کامیاب رہا۔
ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کی پیچیدگی پاکستان کی ثالثی کی وجہ سے نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود بنیادی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے، تاہم اس کے باوجود مذاکراتی عمل ترک نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اصل سفارتی اثاثہ فریقین تک رسائی اور دونوں جانب قابل قبول ہونا تھا، جس نے اسے مذاکرات کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
ساؤتھ ایشین وائسز کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو دونوں فریق مذاکرات کے لیے دوبارہ اسلام آباد کا رخ کرسکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا پائیدار ہونا وقت طلب عمل ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ تعطل یا مشکلات کا ذمہ دار صرف ثالث کو قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ گئے، عباس عراقچی
ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق پاکستان نے ایسے وقت میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی جب دونوں فریق جنگ کے باعث بھاری نقصان اٹھا چکے تھے، ایسے میں پاکستانی سفارتکاری نے براہِ راست رابطے اور مذاکرات کے لیے ایک قابل قبول راستہ فراہم کیا۔
