ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں آپریشن نصر 2 کے تحت شام، اردن، عراق اور عمان میں امریکی تنصیبات اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ شام کے علاقے التنف میں امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر پر حملہ ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں کیا گیا۔
At 2 p.m. ET today, U.S. forces began conducting a new wave of strikes against Iran for the sixth consecutive night to further degrade Iranian military capabilities.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 16, 2026
پاسداران کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران ایک ریڈار سسٹم کو تباہ کیا گیا اور اسپیشل آپریشنز کے لیے استعمال ہونے والے متعدد ہیلی کاپٹر بھی نشانہ بنا کر تباہ کیے گئے جبکہ بڑی تعداد میں امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب کویت کی وزارت بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے میں ایک پاور جنریشن اور واٹر ڈیسالینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا، جس کے باعث آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اردن میں موجود امریکی فوجی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد طیارے تباہ اور دیگر کو شدید نقصان پہنچا۔ بیان میں اردن کے عوام سے بھی امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی اپیل کی گئی۔
ادھر عراق کے شہر اربیل میں امریکی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے کئی دھماکہ خیز ڈرونز مار گرائے۔ کرد سکیورٹی فورسز کے مطابق صبح کے اوقات میں آٹھ ڈرونز کو تباہ کیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اردن کی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ایرانی میزائلوں کو مار گرایا، جن سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے عمان میں بھی امریکی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سمندری نگرانی اور فضائی نگرانی کے ریڈار شامل ہیں۔
