پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
متفرق درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بلاوجہ اضافہ کر دیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گر چکی ہیں۔ وفاقی حکومت کے پاس پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل کا کوئی میکنزم نہیں ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کالعدم قرار دے۔
واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 13 روپے 18 پیسے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 13 روپے 80 پیسے کا اضافہ کیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 323 روپے 30 پیسے مقرر کر دی گئی ہے۔
پیٹرول ، ڈیزل پر عوام کتنی لیوی اور ٹیکس ادا کر رہے ہیں؟ اعداد و شمار سامنے آ گئے
اس کے علاوہ پیٹرول پر عائد لیوی میں 9 روپے 36 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول پر عائد لیوی ایک مرتبہ پھر 80 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، پیٹرول پر لیوی کی شرح اس سے قبل 70 روپے 36 پیسے فی لیٹر تھی۔
اس کے علاوہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا ، مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 11 روپے 19 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 242 روپے 33 پیسے فی لیٹر ہو گئی
