نوجوان تاجر میر رضا کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے لاش کے پوسٹ مارٹم سے متعلق تمام کارروائی مکمل کر لی گئی.
میر رضا کی قبر کشائی کے دوران میڈیکل بورڈ کے ارکان، میر رضا کے اہلخانہ اور وکیل جبران ناصر بھی سوسائٹی قبرستان میں موجود رہے۔ پولیس سرجن، سربراہ شناخت پروجیکٹ اورمجسٹریٹ بھی قبرستان میں موجود رہے، اس موقع پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
8 رکنی میڈیکل بورڈ ممبرز نے لاش کے نمونے حاصل کر لئے ، نمونوں کو کیمیائی تجزیہ کے لیے بھیجا جائے گا، اب قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
واضح رہے گزشتہ روز میر رضا کے اہل خانہ نے 5 رکنی میڈیکل بورڈ کو مسترد کر دیا تھا۔ میر حسین کے وکیل جبران ناصر نے بھی نئے میڈیکل بورڈ کو مسترد کرتے ہوئے پولیس اور سیکرٹری صحت کو نوٹس بھیجا تھا۔
کیس کا پس منظر
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیئے گئے تھے۔
