مکمل سورج گرہن 12 اگست کو دنیا کے چند مخصوص علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جبکہ دیگر کئی ممالک میں جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی خلائی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مکمل سورج گرہن گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمالی روس، اسپین، پرتگال کے بعض حصوں اور بحر اوقیانوس کے اوپر مکمل طور پر دکھائی دے گا۔
رپورٹ کے مطابق اسپین کے جزائر بالیئرک میں سورج غروب ہونے سے قبل مکمل گرہن کا منفرد منظر دیکھا جا سکے گا۔
امریکا، جنوبی کینیڈا، یورپ اور شمال مغربی افریقہ کے متعدد علاقوں میں جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔ جہاں چاند سورج کے صرف ایک حصے کو ڈھانپے گا، جس سے سورج کا ایک کنارہ کٹا ہوا محسوس ہو گا۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق مکمل سورج گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ کر سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ جس کے باعث دن کے وقت بھی چند لمحوں کے لیے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ یہ منظر صرف انہی علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے جو مکمل گرہن کے مخصوص راستے میں واقع ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل سورج گرہن اوسطاً ہر ڈیڑھ سال بعد زمین کے کسی نہ کسی حصے میں وقوع پذیر ہوتا ہے، جبکہ گزشتہ مکمل سورج گرہن 8 اپریل 2024 کو دیکھا گیا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سورج گرہن کے اگلی ہی رات سالانہ برساوشی شہابی بارش اپنے عروج پر ہو گی۔ نئے چاند کی رات ہونے کے باعث یہ شہابی بارش غیر معمولی طور پر واضح دکھائی دینے کی توقع ہے۔ جسے فلکیاتی ماہرین سال کے بہترین آسمانی مناظر میں شمار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آن لائن فراڈ کے خلاف دنیا کا کم محفوظ ترین ملک قرار
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ جزوی سورج گرہن کے دوران آنکھوں کے تحفظ کے لیے صرف منظور شدہ حفاظتی چشمے استعمال کریں۔ کیونکہ بغیر حفاظتی انتظامات کے براہ راست سورج کو دیکھنا بینائی کے لیے شدید نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
