لاہور: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پرانی آئل ریفائنریز کو جدید بنانے کے لیے 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے آئندہ ماہ سے شروع ہونے کی توقع ظاہر کر دی۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریفائنری پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے آئندہ ماہ سے 5 ارب ڈالر کے حقیقی سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط شروع ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف مفاہمتی یادداشتیں نہیں بلکہ عملی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوں گے۔ جن کے تحت ملکی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن سے خصوصاً ڈیزل سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ ریفائنریز کئی دہائیوں سے مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث پرانی ہوچکی ہیں، اس لیے انہیں جدید بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت تقریباً دو دہائیوں بعد پاکستان کے سمندری علاقے میں آف شور تیل و گیس کی تلاش بھی دوبارہ شروع کر رہی ہے۔ ترکیہ کی کمپنی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندری پانیوں میں سیسمک سروے کے لیے اپنا بحری جہاز لائے گی۔ پاکستان اور ترکیہ مل کر آف شور ڈرلنگ کا آغاز کریں گے، جس کا امکان ستمبر یا اکتوبر میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 1500 ارب روپے سے زائد ہے، تاہم حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران اس میں مزید اضافے کو روک دیا ہے اور زیر التوا واجبات کے حل کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ بھی کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مکرمہ دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شامل کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان
علی پرویز ملک نے کہا کہ مقامی تیل و گیس کی تلاش میں نئی سرمایہ کاری پاکستان کی درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے اور ملک کی توانائی سلامتی بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
